سرورق

Saturday, April 9, 2016

سفرنامہ خلیج
مبصرالرحمن قاسمی- ریڈیو کویت
(اس سفرنامہ کو ریڈیو کویت کی اردو سروس کے ہفت وار پروگرام میں مختلف حلقوں میں پیش کیا گیا)
خلیج عرب میں کئی ایسے مقامات ہیں جو سال کے کسی بھی موسم میں تفریح اور وزٹ کے لیے مناسب وموزوں ہے۔ خلیج عرب میں تفریح کے لیے اندرونی اور بیرونی  یعنی indoors  اور outdoors  دونوں طرح کے مقامات سال بھر دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور سیاحوں سے آباد رہتے ہیں۔
یہاں آپ کو جہاں انسان کے ہاتھوں سے بنی ہوئی خوبصورت جگہوں کے مصنوعی جمال وکمال کو دیکھنے اور ان کی سیر کرنے کا موقع ملتا ہے وہیں قدرت کے عجیب وغریب قدرتی نظارے بھی آپ کی سیر وتفریح کے مزے کو دوبالا کرتے ہیں۔
اس پروگرام کے مختلف حلقوں میں ہم آپ کو دبئی کے رنگا رنگ اور آنکھوں کو چکاچوند کرنے والے خوبصورت شہروں، سلطنت عمان کا تاریخی شہر مسقط، بحرین کا قلعہ، ایرانی اور بھارتی ذائقے والے خلیج عرب کے روایتی ہمہ اقسام کے کھانے، خلیج عرب کی خوبصورت تہذیب وثقافت، کویت کا دارالاطہر الاسلامیہ میوزیم، دبئی کا شیخ زید قومی میوزیم ، لوور ابوظہبی ، اور Guggenheim Abu Dhabi  کے بارے میں بتائیں گے۔
اسی طرح "سفرنامہ خلیج" میں ہم  خلیج عرب کے معروف شاپنگ مولس، روایتی بازاروں اور اس سرزمین پر واقع سیر وتفریح کے قابل مقامات پر روشنی ڈالیں گے۔

سفرنامہ خلیج کی پہلی منزل
قلعہ بحرین
آج ہم قلعہ بحرین پہنچے ہیں، دراصل قلعہ بحرین ایک بندرگاہ سے جڑا آثار قدیمہ کا ایک حصہ ہے، بندرگاہ کا یہ علاقہ کسی زمانے میں  Dilmun  تہذیب کا دارالحکومت رہا ہے۔ قلعہ بحرین کو بحرین فورٹ بھی کہا جاتا ہے۔ اس قلعہ کا جہاں اپنے قدیم ماضی سے گہرا رشتہ رہا ہے وہیں 1521 سے  1602 ء. کے عرصے میں پرتگالیوں نے اسے فوجی چھاونی کے طور پر استعمال کیا ہے۔انھوں نے قبضے کے دوران اس قلعے کے درمیانی حصے میں فوج کے کمانڈر کے لیے ایک خاص ہال کی تعمیر کا اضافہ کیا تھا، اسی طرح پرتگالی دور میں قلعے کی فصیلوں کی توسیع بھی کی گئی۔
قلعہ بحرین نہ صرف بحرین کا خاص تاریخی مقام ہے بلکہ یہ قلعہ پورے خلیج عرب کا ایک خاص تاریخی اور سیاحتی مقام ہے، اگر آپ کا بحرین جانا ہوا تو اس قلعے کی سیر کرنا ہرگز نہ بھولیں، تاریخی اعتبار سے اس قلعے کی بہت زیادہ اہمیت ہے، کیونکہ یہ قلعہ صدیوں سے اپنی اصل حالت پر قائم ہے، بحرین کے اس تاریخی قلعے نے اپنی پہلی تعمیر سے لے کر آج تک دنیا میں آنے والی کئی تہذیبوں، ثقافتوں اور قوموں کا مشاہدہ کیا ہے، قلعہ بحرین نے صدیوں پر مشتمل دیلمون تہذیب کے مختلف دور، پھر اسلامی تہذیب کے مختلف دور اور  پرتگالی عہد کے کئی برسوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، یقینا اس قدیم قلعے کو خلیج عرب میں تاریخی اور آثاریاتی اعتبار سے بڑی اہمیت حاصل ہے۔
سن 1500 کے آغاز میں قلعہ بحرین کو قلعہ پرتگال کہا جانے لگا، کیونکہ پرتگالیوں نے بھارت، افریقا اور یورپ کے درمیان اپنی تجارت کے تحفظ اور فروغ کے لیے بحرین کو مرکزی درجہ دیا تھا، اس کے لیے انھوں نے جزیرہ عرب کے اس چھوٹے سے جزیرے پر پہلے اپنا قبضہ قائم کیا اور بحرین فورٹ کو اپنی چھاونی بنائی۔ انھوں نے اس قلعے کو اپنے کنٹرول میں لیا اور اس مضبوط قلعے میں پتھر کے نئے میناروں، چند ہالوں، کمروں اور فصیلوں کا اضافہ کیا، سال 1954 میں اس قلعے کی نئی دریافت ہوئی، جبکہ 1987 میں قلعے کی مرمت نو کا کام شروع کیا گیا۔ کئی سالوں کی محنت کے باوجود اب تک اس قدیم تاریخی قلعے کے صرف چوتھائی حصے تک ہی رسائی ہوسکی ہے، آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے اس قلعے سے ملنے والے آثار انتہائی حیرت انگیز ہیں، کھدائی کے دوران تقریبا 2300 قبل مسیح کے شاہراہوں، رہائشی ڈھانچوں  اور یادگار علامتوں کا پتہ لگا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس قلعے کے اطراف 1450 قبل مسیح کی تعمیر کردہ ایک دیوار ہے جو قلعے کی حفاظت کے لیے بنائی گئی تھی۔ نیز جدید دریافت کے مطابق اس قلعے میں آہنی دور کی ایک عبادت گاہ  اورsanitation systems والے مختلف شاہانہ مکانات بھی ہیں۔
دراصل بحرین فورٹ کا علاقہ 2300 صدی قبل مسیح سے لے کر 18 ویں صدی تک مستقل طور پر ایک قوم سے دوسرے قوم کے زیر اثر رہا ہے۔ چوتھی صدی قبل مسیح کی دریافت شدہ سومیری دور کی ہڈیوں کی تختیوں پر واضح اشارہ ملتا ہے کہ قلعہ بحرین یا بحرین فورٹ دیلومن تہذیب کا دارالحکومت اور مرکز تھا۔
قلعہ بحرین / خلیج عرب کی مشہور تاریخی جگہ ہے، 1561 میں جب یہ قلعہ پرتگالی فوجیوں کا اہم ٹھکانہ بن گیا تو انھوں نے اس قلعے کا نام "قلعہ بحرین" سے قلعہ پرتگال رکھا، پرتگالیوں نے بھارت، افریقا اور یورپ کے درمیان اپنی تجارت کو مستحکم کرنے اور فروغ دینے کے لیے بحرین کو اپنا مرکز بنایا تھا، جبکہ قلعہ بحرین پرتگالی فوجیوں کی چھاونی بن چکا تھا۔ لیکن سترہ ویں صدی میں پرتگالیوں کی ناکامی کے ساتھہ چھاونی نما اس قلعے کی رسی بھی کمزور ہوگئی۔ اور ایک بار پھر یہ قلعہ فوجی چھاونی سے اپنی تاریخی حیثیت کی جانب گامزن ہوا۔
بحرین فورٹ اپنی تعمیر کے بعد سے اب تک ناقابل یقین حد تک محفوظ ہے، اس کے در ودیوار کئی قوموں، تہذیبوں اور ثقافتوں کی خاموش زبان میں داستان بیان کرتے ہیں،  دنیا بھر سے اس قلعے کو دیکھنے آنے والے سیاح اور زائرین جب اس قلعے کی ساخت، اس کی تاریخ اور درودیوار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس کے معماروں کی تعریف میں قصیدے پڑھنے لگتے ہیں۔ یقینا یہ قلعہ اپنے معماروں کی مہارت ،ان کے حوصلوں اور عزم مصمم کا زندہ ثبوت اور گواہ ہے۔
یونسکو نے اس قلعے کو اس کی تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی اہمیت کے پیش نظر "عالمی ورثہ مقامات" کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
قلعہ کا sea tower قابل ذکر ہے۔یہ ٹاور کئی اعتبار سے اہمیت کا حامل ہے، دراصل خلیج عرب میں یہ واحد مینار ہے جسے قدیم مینارہ نور ہونے کا شرف حاصل ہے، یہ مینار اپنی ساخت، تعمیر اور خوبصورتی میں خلیج عرب کی ایک منفرد  مثال ہے، روشنی کا یہ مینار خطے کی قدیم بحری تجارت کیجانب اشارہ کرتا ہے، اس مینار کی مدد سے لوگ بحری راستوں کا پتہ لگایا کرتے تھے۔
قدیم مملکت دیلمون کے دور میں بحرین بندرگاہ نہ صرف مملکت کا دارالحکومت تھا، بلکہ بندرگاہ کا یہ علاقہ اس دور میں بھی تجارتی، زرعی اور روایتی سرگرمیوں کا مرکز تھا، تیسری صدی قبل مسیح سے پہلی صدی قبل مسیح تک بحرین بندرگاہ کئی ملکوں کو تجارتی، زرعی اور سماجی اعتبار سے جوڑتی تھی، جن میں قابل ذکر چین، بھارت اور یورپی ممالک ہیں۔ اس لحاظ سے قلعہ بحرین خلیج عرب میں قدیم تہذیبوں اور قدرتی عناصر کی ایک منفرد مثال ہے۔
چند برس پہلے بحرین ٹورزم کی جانب سے قلعہ بحرین کے مقام پر ایک میوزیم تعمیر کیا گیا ہے، فروری 2008 میں اس میوزیم کا افتتاح عمل میں آیا، "قلعہ بحرین میوزیم " کی کوشش ہے کہ قلعے کی قدیم تاریخی خصوصیات، دستاویزات اور آثاریاتی ادوار کو نقصان پہنچائے بغیر انھیں ان کی اپنی اصل شکل میں دریافت کرنا، یہ میوزیم مملکت بحرین کے شمالی ساحل پر واقع ہے، میوزیم کا انتہائی جاذب نظر اور دلکش بحری نظارے اور سرسبز ہریالی سے احاطہ کیا گیا ہے۔ میوزیم کے کلیکشن میں پانچ مختلف تاریخی زمانوں پر مشتمل نمائش ہے جسےchronologicallyاور زمانی اعتبار سے ترتیب دیا گیا ہے۔ ہر نمائش کی ایک علاحدہ گیلری ہے، میوزیم کا ڈیزائن کچھ اس طرح ہے کہ اس کا عقبی یا پچھلا حصہ سمندر ہے جبکہ سامنے کے حصے پر گاوں کے قلب سے سمندر کے ساحل تک کا راستہ نقش کیا گیا ہے۔ میوزیم میں ایک مرکزی ہال ہے جس میں سے ایک کیفے گھر تک راستہ گیا ہوا ہے، یہ کیفے خط ساحل پر قلعے کے بالکل سامنے نمودار ہوتا ہے جہاں سے قلعہ بحرین نظر آتا ہے، اسی طرح میوزیم میں  ایک لیکچر ہال اور ایک گفٹ شاپ ہے، لہذا دوسری مرتبہ جب آپ بحرین کا سفر کریں تو سیر وتفریح کے لیے ہماری اس فہرست کو ضرور ساتھ رکھیں۔
الفتح مسجد منامہ، بحرین

قطر کا اسلامک آرٹ میوزیم:
 آئیے اب ہم خلیج عرب کے پرکشش شہری مقامات کی جانب بڑھتے ہیں :
قطر کا اسلامک آرٹ میوزیم دنیا بھر میں مشہور ہے، اس بارے میں ہم اس پروگرام کے آئندہ حلقے میں تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔ لیکن خلیج عرب کے اس مشہور میوزیم کا بیرونی منظر بھی قابل ذکر ہے، میوزیم کے بیرونی حصے میں تقریبا 68 ایکڑ رقبے پر ایک پارک بنایا گیا ہے، سن 2012 میں اس پارک کا افتتاح ہوا، اس پارک میں ایک ٹین پوش گذرگاہ ہے جس کے دونوں جانب پانی کی خوبصورت نالیاں ہیں، اس گذرگاہ سے ہم ایک اونچی جگہ تک پہنچتے ہیں، گزرگاہ پر  تھوڑی چہل قدمی کرنے کے بعد چائے، کافی ، نمکین اور آئس کریم کے دکانوں کی کھڑکیاں کھلتی ہیں، ان دونوں جگہوں سے مغربی خلیج کی بو آتی ہیں۔ پارک کی اس چہل قدمی کے دوران آپ اسٹیل کا "7" نامی عمودی مجسمہ بھی دیکھہ سکتے ہیں، اس مجسمے کو امریکی آرٹسٹ Richard Serra نے بنایا ہے، یہ مجسمہ پارک کے چوتھے پوائنٹ پر رکھا ہوا ہے۔ پارک میں بچوں کو کھیلنے کے لیے لوازمات سے بھر پور مخصوص جگہ، کرائے پرpaddle boats اور پکنک کے لیے بڑی مقدار میں کھلی جگہ کا نظم ہے۔
قطر اسلامک آرٹ میوزیم کے بیرونی حصے کے پارک میں ہر مہینے کے پہلے ہفتے کو ماہانہ بازار بھی لگتا ہے، جہاں کھانے پینے کی چیزوں سمیت کپڑے، زیورات، کتابیں اور تحفے کے سامان بیچے جاتے ہیں۔ پارک / میوزیم کی طرح ہر منگل کو بند رہتا ہے جبکہ روزانہ صبح ساڑھے دس بچے سے کھل جاتا ہے۔ البتہ پارک میں لگنے والا ماہانہ بازار موسم سرما میں نہیں لگتا ہے۔

قطر کا مشہور روایتی بازار سوق واقف:
ہم قطر کے مشہور بازار "سوق واقف" میں ہیں، یہ دوحہ کا ایک مشہور بازار ہے، "واقف" کے معنی ٹھہرنا ہے، اس لحاظ سے سوق واقف کا مطلب"standing market ہے۔ یہ ایک
open-air working مارکیٹ ہے، جو دوحہ سٹی کے بالکل قلب میں واقع ہے جبکہ اس کا ایک حصہ لب سمندر پر ختم ہوتا ہے، یہ بازار چار بلاکس پر مشتمل ہے، اس کے چاروں حصوں میں گاہکوں کی ہمہ وقت چہل پہل رہتی ہے۔
"سوق واقف" نامی دوحہ کا یہ متحرک بازار ماضی اور قطری صداقت کا شاہد ہے، اس بازار کی تاریخ 19 ویں صدی کے آغاز سے ملتی ہے، جب بدون / اونٹوں کے ذریعے لکڑی، کوئلہ، بھیڑ اور اونٹ کا دودھہ فروخت کرنے کے لیے اس بازار میں جمع ہوتے تھے، اس بازار کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی تھی، لیکن قطر کے عالی مقام امیر کی جانب سے جاری کیئے گئے فرمان کے بعد سن 2004 اور 2006 میں اس بازار کی روایتی طریقے کا استعمال کرکے دوبارہ کامیاب ترمیم ہوئی۔ اس بازار کی ترمیم نو میں قدیم طرز پر سورج کی روشنی میں تیار کردہ اینٹوں اور لکڑی کے کھمبوں کا استعمال کیا گیا اور اسٹیل کی اشیاء سے مکمل طور پر احتیاط کیا گیا۔ بازار کے چھت کی بھی روایتی انداز سے ترمیم کی گئی اور چھت کے کھمبوں کو چکنی مٹی سے لیپا گیا۔
قطر کے دوحہ  کا "سوق واقف" دبئی کے بازاروں سے بالکل مختلف ہے، سوق واقف اپنی خوبصورت تعمیر اور گاہکوں کی ہمہ وقت چہل پہل کی وجہ سے گلف کا ایک مشہور بازار ہے، یہ بازار جہاں قدیم قطر کی یادوں کو تازہ کرتا ہے وہیں قطر کی تہذیبی شناخت کا عکاس بھی ہے۔ اس بازار میں آپ کو ہر چیز ایسی دکھائی دے گی کہ آپ اسے اپنے کیمرے میں قید کرنا ضروری سمجھیں گے، اگر آپ کو اس بازار کی کسی ہوٹل کے بیرونی حصے میں بیٹھنے کے لیے ٹِیبل نصیب ہوجائے تو سمجھیں کہ آپ خوش نصیب ہیں۔ کیوں کہ یہاں کے ہوٹلوں میں لوگ دور دور سے آتے ہیں اور ہوٹلوں کے بیرونی حصے میں بیٹھہ کر اس روایتی بازار کی رونق سے لطف اٹھاتے ہیں۔
سوق واقف میں ہر شب انٹرٹینمینٹ کی رنگا رنگ محفلیں منعقد ہوتی ہیں، بازار کی تفریحی محلفوں کو دوبالا کرنے کے لیے نہ صرف ملک کے فنکار پیش پیش دکھائی دیتے ہیں بلکہ بسا اوقات غیر ملکی فنکار بھی ان محفلوں میں شرکت کرکے اپنے فن کا جلوہ دکھاتے ہیں۔ بازار کا ماحول ہمہ وقت خوشگوار ، محبت کی فضاوں سے پر اور مکمل محفوظ ہوتا ہے، سوق واقف میں دکانیں دوپہر سے شام چار بجے تک بند رہتی ہیں، اس بازار کی سیر کے لیے بہترین وقت شام چار بجے سے رات گیارہ بجے تک کا ہے۔ بازار میں عموما سب ہی دکانیں رات گیارہ بجے بند ہوجاتی ہیں، البتہ کیفے گھر نصف شب تک کھلے رہتے ہیں، مقامی لوگ یہاں نصف شب تک سیشہ اسموکنگ اور گپ شپ میں مگن دکھائی دیتے ہیں۔

جاری--------