سرورق

Tuesday, April 19, 2016

سفرنامہ خلیج 
(قسط 2)
مبصرالرحمن قاسمی (ریڈیو کویت)
(یہ سفرنامہ ریڈیو کویت کی اردو سروس سے مختلف حلقوں میں نشر ہوا-)

آج ہم ایک ایسے جزیرہ کی روداد لے کر حاضر خدمت ہیں جو ایک طرف کویتی ورثہ کا لازمی حصہ ہے تو دوسری طرف سیاحوں اور سیر وتفریح کرنے والوں کے لیے ایک خوبصورت مقام ہے، جہاں سیر وتفریح کے لیے نہ صرف کویت اور بیرون ممالک کے سیاح آتے ہیں بلکہ دنیا بھر سے ماہرین آثار قدیمہ بھی اس جزیرے پر تحقیقی کاموں میں جٹے ہوئے ہیں۔

جزیرہ فیلکا کویت کے پرکشش تاریخی مقامات میں سے ایک ہے، سال کے 12 مہینے یہاں ماہرین آثار قدیمہ، محققین اور سیاحوں کا تانتا بندھا ہوا ہوتا ہے، کویت میں مقیم ملکی وغیر ملکی افراد ہفتے کی چھٹی یہیں گذارنا پسند کرتے ہیں۔
کویت میں جملہ 9 جزیرے ہیں، جو جزیرہ فیلکا، جزیرہ بوبیان، جزیرہ مسکان، جزیرہ وربہ، جزیرہ عوھہ، جزیرہ ام مرادم، جزیرہ ام النمل، جزیرہ کبرKubar اور جزیرہ قاروہQaruhناموں سےمشہورہیں۔
یہ تمام جزیرے عوام کی تفریح کے لیے کھلے ہیں، ان جزیروں میں سیر وتفریح کے لیے اکتوبر سے مئی تک کا وقت زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان مہینوں میں موسم خوشگوار رہتا ہے، کویت کے ان جزیروں کے ساحل صاف ستھرے اور ریتیلی ہیں، تمام ہی جزیروں میں ماہی گیری، تیراکی اور دیگر واٹر اسپورٹس کے عمدہ انتظامات ہیں۔


جزیرہ فیلکا کویت کے سالمیہ منطقے سے تقریبا 25 منٹ کی مسافت پر واقع ہے، یہ ایک ریتیلا اور خوبصورت جزیرہ ہے، اس جزیرے میں پہنچنے کے لیے کشتیوں کا عمدہ نظم ہے، کشتی کے ذریعے جب ہم جزیرے سے قریب پہنچتے ہیں تو قدیم گاوں کا مںظر دکھائی دیتا ہے، یہ منظر پچاس سال پرانی یادوں کو تازہ کرتا ہے، قدیم مکانات، کھنڈرات اور گاوں کا عجیب وغریب منظر ماضی کی پرسکون زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ اگرچہ آج جزیرے میں سیاحوں کے لیے تمام لوازمات دستیاب ہیں۔
کویت میں واقع اس تاریخی جزیرے پر آج سے تقریبا تین ہزار سال قبل مسیح انسان آباد ہوئے تھے، اس جزیرے کا جائے وقوع انتہائی اہم ہے، کیونکہ اس جزیرہ کو قدیم زمانے میں مابین النھرین کی تہذیبوں اور وادی سندھہ کی تہذیبوں کے درمیان ایک اہم رابطہ کار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا، قدیم دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ دیلمون تجارتی نظام اسی جزیرے پر منحصر تھا، جس کا مرکز بحرین تھا، جزیرہ فیلکا سے برآمد شدہ تحریروں اور دستاویزات کے مطابق دیلمون عہد میں اس جزیرے کو "سرزمین اینزیک" کہا جاتا تھا، انزک دراصل دیلمون کے مختلف خداوں میں سے ایک خدا کا نام تھا، جزیرہ فیلکا میں ماہرین آثار قدیمہ کی جانب سے کی گئی کھدائی کے دوران کئی ثبوت ملے ہیں، ان ثبوت کا تعلق براہ راست دیلمون اور مابین النھرین کی تہذیبوں سے ہے۔
جزیرہ بوبیان کے بعد جزیرہ فیلکا کویت کا دوسرا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جسے Hellenic Ikaros بھی کہا جاتا ہے۔
یہ جزیرہ لمبائی میں 14 کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ اس کی عرض یا چوڑائی 6 کلومیٹر ہے، خلیج کویت کا یہ سب سے بڑا جزیرہ ہے، اس جزیرے نے اپنی پشت پر کئی قوموں اور تہذیبوں کو جگہ دی، ان کی میزبانی کی اور انھیں اپنے خوشگوار وخوبصورت جائے وقوع سے خوب فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کیا۔

تاریخ کے ایک باب کے مطابق جزیرہ فیلکا مملکت دیلمون کے لیے شمال میں سب سے بڑا بیرونی ٹھکانہ تھا، جہاں سے وہ وادی سندھہ اور مابین النھرین کے درمیان کے علاقوں میں اپنی تجارت کو کنٹرول کرتے تھے، عہد رفتہ میں وادی سندھ اور دیلمون دو ایسی تہذیبی گذری ہیں جن کا دنیا میں تجارت اور ثقافت کے میدان میں ڈنکا بجتا تھا، ان دونوں علاقوں کے باشندوں نے اس زمانے میں مشرق ومغرب میں اپنی تجارت وحکمرانی کا لوہا منوایا۔
جزیرہ فیلکا کے اسی تاریخی پس منظر کی وجہ سے سال بھر ماہرین آثار قدیمہ یہاں کے کھنڈرات اور ٹیلوں میں اپنی صلاحیتوں کو صرف کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
آثار قدیمہ کے نقطہ نظر سے جزیرہ فیلکا کو گذشتہ چار ہزار سال پہلے کا ایک مکمل ریکارڈ تسلیم کیا جاتا ہے، گذشتہ صدی کی پچاس کی دھائی سے یہ جزیرہ ماہرین آثار قدیمہ کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اور آئے دن ماہرین آثار قدیمہ کی اس جانب دلچسپی بڑھتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، ماہرین آثار قدیمہ کو یہاں چند آثاریاتی ٹیلوں کے دریافت کی امید ہے، جن سے مختلف تاریخی حقائق منظر عام پر آسکتے ہیں۔
اس جزیرے میں فرانسیسی اور کویتی ماہرین آثار قدیمہ کی ایک مشترکہ تحقیق کے دوران ایک ہزار سال پہلے کا تعمیر کردہ ایک قدیم گرجاگھر دریافت ہوا ہے۔ اس گرجا گھر کی تعمیر اور اس میں پائی گئی چیزوں سےمحققین نے کئی نتائج تک رسائی حاصل کی ہیں۔
کویت کے مقابلے آج فیلکا کی حالت بالکل مختلف ہے، لیکن آج سے ایک زمانہ پہلے فیلکا اپنی گوناگوں معیشت کی وجہ سے پہچانا جاتا تھا، اس کی معیشت کا انحصار زراعت، ماہی گیری اور موتیوں کی تجارت پرتھا۔
فیلکا کا قدیم یونان سے بھی گہرا رشتہ رہاہے، بلکہ یہ جزیرہ چوتھی صدی قبل مسیحی میں یونانی سیاحوں کا اہم ٹھکانہ ثابت ہوا، یونانی سیاح Sotelos اور اس کےساتھی قدرتی آفت سے بچکر اس جزیرے میں پناہ گزیں ہوئے تھے، انھوں نے اس جزیرے میں ایک مدت تک قیام کیا تھا، جب انھوں نے اس جزیرے کو خیرباد کہا تھا اس وقتSotelos اور اس کے ساتھیوں نے جزیرے میں چند کتبے چھوڑے تھے جن پر یونانی معبودوں Zeus اورArtemisکے نام کندہ تھے۔
سرزمین بھارت سے جب سکندر اعظم لوٹ رہا تھا تو اس نے اپنے فوجی کمانڈر جنرل Nearchus کو فوج کی ایک ٹکڑی کے ساتھ جزیرے فیلکا میں تعینات کیا تھا، تاکہ تجارتی راستوں کی حفاظت کی جا سکے، یہ وہ وقت تھا جب سکندر اعظم وسطی ایشیاء فتح کر چکا تھا، اس وقت سکندر اعظم نے اس جزیرے کو جزیرہIkaros کہا تھا، اس تاریخی پس منظر کی وجہ سے یونانی لٹریچر میں فیلکا کا جگہ جگہ تذکرہ ملتا ہے۔
معاصر محققین کا کہنا ہےکہ جزیرہ فیلکا میں کثرت سےدرخت تھے اور یہاں بڑی تعداد میں جنگلی جانور بھی آباد تھے۔
جزیرے میں دریافت کیئے گئے قدیم دور کے سکوں سے بھی یہاں کی اصل زندگی کے بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں۔
 اسلام کی آمد سے پہلے کی اس جزیرے کی تاریخ غیریقینی طور پر مدفون ہے، اس کی ایک وجہ وہ خارجی تحریری ذرائع ہیں جو کتبوں اور قدیم سکوں تک محدود ہیں، اس تحریری مواد کی قلت ہی تاریخ کے تئیں مزید شک میں مبتلا کرتی ہے۔ البتہ یقین کے لیے یہ کافی ہے کہ اس خطے عرب میں ہجرت کا سلسلہ مسلسل جاری رہا، ساتھ ہی مقامی بادشاہوں اور امراء کے اثر ورسوخ میں نشیب وفراز کی کیفیت مستقل رہی، یہی چیز اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ سکندر اعظم نے بھارت کے اپنے سفر کے دوران سرزمین عرب کو بھی اپنے منصوبے میں شامل کیا تھا اور مشرق وسطی کے کئی ملکوں کے ساتھ ساتھ فیلکا کو بھی اپنی عظیم مملکت کا اہم حصہ قرار دیا تھا۔ان ہی ثبوتوں کی روشنی میں بعض مورخین کا کہنا ہے کہ عرب سکہ درہم / اسلامی زمانے سے پہلے سے ہی سرکیولیشن میں رہا ہے، اور اس"درہم"کی اصل یونانی سکہdrachmaہے۔


فیلکا اور کویت کے درمیان تعلق کی کہانی بھی عجیب وغریب ہے، فیلکا کے شمال مغرب میں واقع AzZawrگاوں آج کے کویت کا آبادی والا سب سے قدیم علاقہ ہے،موجودہ تاریخی ثبوتوں کے مطابق کویت سٹی کی اصل زمین دراصل ان لوگوں سے آباد ہیں جنھوں نے سب سے پہلے فیلکا سےیہاں ہجرت کی تھی،کویت کی ابتدائی تاریخ میں لکھا ہے کہ آج سے ہزار سال پہلے یہاں کا پانی تقریبا ناقابل استعمال تھا، جبکہ فیلکا کا پانی صاف اور پینےکے قابل تھا، صاف پانی کی وجہ سے فیلکا میں لوگ زراعت بھی کرتےتھے، لیکن جدید شہرکی تعمیر کے بعد فیلکا کے صاف پانی کوشہرمیں منتقل کیا جانے لگا۔

کویت سٹی

جزیرہ فیلکا اور اس کےقریب دیگر چھوٹے چھوٹےجزیروں سمیت صبیہ مقام تاریخی اور ثقافتی خزانوں سے مالا مال ہے، یہ خزانے ماضی میں خلیجی ساحلوں پر تجارت کی غرض سے آنے والے تاجروں کے چھوڑے ہوئے ہیں، لیکن بدقسمتی سے گذشتہ دو دہائیوں میں کویت کے یہ جزیرے بیرونی حملوں کےشکار ہوئے ہیں۔
دوسری خلیج جنگ کے دوران عراقی فورسیز فیلکا پر قابض ہوئی، اور اس نے ان جزیروں میں موجود اہم تاریخی مقامات اور قدیم یونانی عبادتگاہوں کو مسمار کردیا، جس کی وجہ سے آزادی کے کئی سالوں کے بعد تک ماہرین آثار قدیمہ یہاں تحقیقی کام نہ کرسکے۔
حالیہ برسوں میں جزیرہ فیلکا میں ایک ہیریٹیج ولیج تعمیر کیا گیا ہے، ساتھ ہی یہاں روایتی طرز کی ایک ہوٹل بھی تعمیرکی گئی، سیاحوں کے لیے ایک گفٹ شاپ کا بھی نظم کیا گیا، ساتھ ہی سیاحوں کی تفریح کے لیے اونٹ سواری، ایک چھوٹا سا میوزیم اور دیگر پرکشش چیزیں موجود ہیں۔
جو لوگ جزیرے میں موجود اُن آثار قدیمہ کے مقامات کی وزٹ کرنا چاہتے ہیں جو فینسنگ کے ذریعے محفوظ کیئےگئے ہیں اور جن پرگارڈ تعینات ہیں، ان لوگوں کے لیے جزیرہ پہنچنے سے پہلے ہی کویت نیشنل میوزیم سے اجازت نامہ حاصل کرناضروری ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔
مسقط کے بازار مطرح کا ایک منظر
اب ہم مسقط کے ایک بازار میں رواں دواں ہے، اگر آپ مسقط جائیں تو Damasca Restaurant جانا ہرگز نہ بھولیں، اس ہوٹل کے سامنے آپ کو شامی تمر فروخت کرنے والا ایک بھارتی شخص دکھائی دے گا، دراصل شامی تمر مسقط کا ایک مشہور مشروب ہے، جسے املی اور گلاب کے پانی سے تیار کیا جاتا ہے، یہ مشروب آپ کو نہ صرف تازہ دم کردے گا بلکہ آپکی پیاس کو بچھانے کا کام بھی کرے گا، اس مشروب فروخت کرنے والے کی حرکات وسکنات بھی دیکھنے کے لائق ہیں، خریداروں کا ہجوم اس کی مقبولیت کی علامت ہے،وہ ہرخریدار سے پیسہ لیتا ہے اور اپنی ٹوپی میں ڈالتا جاتا ہے، دراصل اس شخص کی ایک داستان ہے، آج سے پانچ برس پہلے وہ اپنے معمول کے مطابق لوگوں کو اپنےمشہور مشروب سے لطف اندوزکررہا تھا، اس دوران اسےجیمی کارٹر کی تمر ہندی سےمیزبانی کا موقع مل گیا، سابق صدر نے اس کی اس ذائقہ دار مشروب اور محنت سے متاثر ہوکر اس کی ٹوپی میں ایک ہزارڈالررکھہ دیئے، اور یہیں سے اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوگیا۔
عرب بازار:
ہر  مشہور جگہ کی ایک خاصیت ہوتی ہے، چاہے وہ کوئی بڑا شہر ہو، یا بازار ہو یا پھر کوئی تاریخی مقام،،، آج ہم عمان کے ایک قدیم بازار میں ہے، یہ بازار سوق مطرح Mutrah نام سے مشہور ہے، سوق مطرح عمان کے قدیم بازاروں میں سے ایک ہے، عمانی مورخین کے بقول سوق مطرح عمان کا 2 سو سال پرانا بازار ہے۔ شہر کی گنجان آبادی کی وجہ سے باہر سے یہ بازار دکھائی نہیں دیتا ہے، بازار کا آغاز قدیم طرز کے تعمیر شدہ ایک گیٹ سے ہوتا ہے، جس پر جلی حرفوں میں سوق مطرح مکتوب ہے۔ اس گیٹ کے روبرو بحر عمان اور سمندر سے جڑی سڑک ہے، بازار کے اختتام پر بھی ایک گیٹ ہے، یہ گیٹ شہر کے اس وسطی حصے میں کھلتا ہے جہاں قدیم کوارٹرس واقع ہیں، جن میں عمان کے دیگر شہروں اور قصبوں سے آنے والے لوگ ٹھہرتے ہیں۔  سوق مطرح قدیم مشرقی بازاروں کا ایک نمونہ ہے، لکڑی کی چھت والی تنگ گلیاں اس بازار کی خاصیت ہے، عمانی اس بازار کو سوق مطرح کے علاوہ دیگر کئی ناموں سے جانتے ہیں، بعض عمانی اس بازار کو اس کی تاریک اور تنگ گلیوں کی وجہ سے "سوق الظلام " بھی کہتے ہیں، جس کے معنی تاریک بازار ہے، چونکہ اس بازار میں دکانوں کی کئی ایسی لائنیں ہیں جو گلیوں کو بالکل تنگ کردیتی ہیں اس تنگی کی وجہ سے سورج کی روشنی مکمل طور پر بند ہوجاتی ہے، اسی وجہ سے بعض عمانی اس بازار کو سوق الظلام کہتے ہیں۔
سوق مطرح مشرقی اور مغربی دو حصوں میں بٹا ہوا ہے، تنگ گلیوں والا حصہ جسے سوق الظلام اور سوق صغیر کہا جاتا ہے جبکہ دوسرے حصے کو سوق کبیر کہا جاتا ہے، سوق کبیر ہول سیل مارکیٹ کے طور پر بھی معروف ہے۔
سوق مطرح میں جب ہم داخل ہوتے ہیں تو عربی مسالوں، اور پرفیومس کی مہک آنے لگتی ہیں، یہ بازار عمانی کپڑوں سے بھی مشہور ہے، یہاں عمان کے روایتی کپڑوں، روایتی مٹھائیوں خاص طور پر "حلوا" اور مسالوں کی دکانوں سمیت روایتی ڈیزائن کے زیورات کی دکانیں ہیں۔ مطرح عمان کا سب سے بڑا سیاحت کا مرکزہے، اس بازار کے صدر دروازے پر ہمہ وقت سیاحوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے، سمندر کے کنارے پر واقع اس بازار کا مین گیٹ سیاحوں کی تصویر بازی کے لیے مشہور ہے، اسی طرح مطرح کی زیورات اور کپڑوں کی دکانیں بھی بیرونی سیاحوں کی توجہ کے مرکز ہیں۔ دراصل سوق مطرح کا قدیم انداز، رونق اور یہاں کی چہل پہل بیرونی سیاحوں کو بہت پسند آتی ہے۔

خلیجی ثقافت:

شارجہ چلڈرنس ریڈنگ فیسٹول SCRF شارجہ میں منعقد ہونے والا خلیج عرب کا ایک ثقافتی میلہ ہے، اس میلے میں تخلیق کاروں اور فنکاروں کی ہمت افزائی اور ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی کوشش کی جاتی ہے، گیارہ دن پر مشتمل یہ میلہ اپریل میں منعقد ہوتا ہے، شارجہ ایکسپو سینٹر میں اس میلے کے موقع پر دنیا بھر کے چنندہ بچوں کے مصنفین کو جمع کیا جاتا ہے، اس میلے میں بچوں کے لیے لکھنے کا کام کرنے والے یہ مصنفین اپنے چاہنے والوں سے ملاقات کرتے ہیں اور اپنے عمدہ کام کو اس میلے کی مختلف نشستوں میں پڑھہ کر سناتے ہیں۔ اس میلے میں 120مقامی اور بین الاقوامی پبلشرس حصہ لیتے ہیں اور بچوں کے لیے لکھی ہوئی اپنی چھپی ہوئی کتابوں کے اسٹال لگاتے ہیں، شارجہ میں منعقد ہورہے اس میلے کا مقصد چھوٹی اور بڑی عمر کے لوگوں میں پڑھنے کا شوق پیدا کرنا، عربی لٹریچر کا فروغ اور فنکاروں ، ادباء و مصنفین کی ہمت افزائی کرنا ہے، اسی طرح شارجہ چلڈرن ریڈنگ فیسٹول کا مقصد بچوں کے لیے لکھنے والے مصنفین اور ادباء اور بچوں سےمتعلق کتابیں چھپانے والے ناشرین کو ایک دوسرے سے متعارف کرانا اور انھیں ایک متحدہ نیٹ ورک سے وابستہ کرنا ہے۔