تحریر – مبصرالرحمن قاسمی
عربی شعروشاعری کا دنیا کا منفرد کتب خانہ
البابطین سینٹرل لائبریری برائے عربی شاعری
کتب خانوں کا تصور بہت قدیم ہے اور زمانہ قدیم سے ہی کتب خانے
معاشرے کی فکر اور علمی ترقی میں مددگار رہے ہیں۔ کسی بھی عہد کی مجموعی ترقی میں
علم اور فکر کا ہی دخل رہا ہے۔ کتابیں علم وحکمت کا خزانہ ہوتی ہیں اور شعور وٗ
ادراک کی دولت قوموں کو اسی خزانے سے حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی قومی معاشرے میں کتب
خانوں سے ایک طرف تو امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو قوموں کے افراد کے
ذہنوں کو تخلیقی اور تعمیری رجحانات دیتی ہے اور وہ تہذیب وتمدن سے آشنا ہو کر
اتحاد و اتفاق سے زندگی گزارنے کا فن سیکھتے ہیں۔
کتب خانے ذہنی تفریح کا ایک تعمیری ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کتابوں
کی دُنیا میں نہ صرف اپنی کلفتوں کو بھول جاتا ہے بلکہ اُس کی سوچ میں وسعت بھی
آجاتی ہے، اُس کا دامن عِلم کے ساتھ ساتھ فضیلت کے موتیوں سے بھر جاتا ہے کیونکہ
اُس کے اندر تقوے کے ایک شعور پیدا ہوتا ہے ۔ جس قوم کے افراد علم و فَضل کی دولت
سے بہرہ وَر ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے اپنے باپ دادا کی اُن تصنیفات کو کُتب خانوں
میں محفوظ کر لیتے ہیں جن کو زمانے کی گردش سے خطرہ ہوتا ہے، ویسے بھی تاریخ اُنہی
قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہے۔
کتابیں بہترین رفیق ہوتی ہیں۔ انسان انسان کو
فریب دیتا ہے مگر کتاب کبھی دھوکا نہیں دیتی۔ کتاب کا ایک ایک ورق واضح، کھلا اور
سچا ہوتا ہے۔ کتاب زندگی کی تلخیوں میں حلاوت اور مٹھاس پیدا کرتی ہے اِس سے
وقت بہلتا، احساس سنورتا، فکر نکھرتا، اور ذوق شگفتہ ہوتا ہے۔ کتاب ایک بہترین
ناصح، ایک شفیق دوست اور ایک معتبر رہنما ہے۔ کتاب علم کے نور اور قلم کی عظمت کا
ایک خوبصورت اظہار ہے اور جو لوگ علم اور قلم کے اِس سرچشمے سے خود کو وابستہ کر
لیتے ہیں وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ الغرض کتب خانے ایک قومی ضرورت ہیں، تنہائی کی
نعمت ہیں، ادب اور فن کے خزانے ہیں، علم کا ایک سمندر ہیں کہ موجیں مار رہا ہوتا
ہےاور ہر ایک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور اپنے ظرف کے مطابق اپنی پیاس
بجھاتا چلا جائے۔
کتب بینی کے شائقین اور عربی زبان میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے
لیے البابطین سینٹرل لائبریری ایک شاندار جگہ ہے، یہ کتب خانہ عربی شعروشاعری کا
دنیا کا منفرد کتب خانہ ہے، جو ایک طرف عربی شعروشاعری کی قدیم وجدید کتابوں کی
پناہ گاہ ہے تو دوسری طرف اس کتب خانے نے جدید عربی شعراء کے کلام کے تحفظ کا بیڑہ
اٹھارکھا ہے، اس کتب خانے کو ہم البابطین سینٹرل لائبریری برائے عربی شعروشاعری کے
نام سے جانتے ہیں۔یہ کتب خانہ کویت میں واقع ہے، آئیے ہم آپ کو دنیا کی اس عظیم الشان لائبریری
کی سیر کراتے ہیں۔
البابطین
سینٹرل لائبریری کی بنیاد ۲۲ شوال ۱۴۲۲ ھ مطابق ۶ جنوری ۲۰۰۲ ء کو اس وقت کے نائب
وزیراعظم اول اور حالیہ کویتی امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کی سرپرستی میں
عمل میں آئی تھی۔ البابطین لائبریری / دنیا میں عربی شاعری کا پہلا منفرد کتب خانہ
ہے، عبدالعزیز سعود البابطین اس عظیم الشان کتب خانے کے بانی ہیں، دراصل اس
کتب خانے کا قیام عبدالعزیز البابطین کی عربی شاعری وادب سے گہری وابستگی کا نتیجہ
ہے۔ اس کتب خانے کی دنیا میں مقبولیت کے بعد عبدالعزیز البابطین نے عرب شعراء کی
حوصلہ افزائی کے لیے اسی کتب خانے کے پرچم تلے عبدالعزیز سعود البابطین ایوارڈ
فاونڈیشن برائے شعری تخلیق کی بنیاد رکھی، اسی طرح اس کتب خانے کی سرگرمیوں میں
علم عروض کے ورکشاپ منعقد کرائے اور اسی کتب خانے کے نام سے کئی قدیم وجدید شعری
مجموعوں کی اشاعت کی۔
اس اعتبار سے عربی شعروشاعری کے میدان میں
البابطین لائبریری کو دنیا کے تمام کتب خانوں کے درمیان ایک منفرد پہچان حاصل
ہوگئی ہے۔ آج البابطین لائبریری نہ صرف قصیدہ گوشعراء کے لیے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے
بلکہ قصیدے کے راوی، مدون، معلم اور محقق کی آماجگاہ ہے، یہاں قدیم وجدید عربی
شاعری کا شوق رکھنے والوں کی ہمت افزائی ہوتی ہے اور عربی شاعری کو نیا رنگ، نئی
جہت اور تازہ روح فراہم ہوتی ہے۔
البابطین لائبریری تمام جدید ذرائع سے آراستہ
ہے، عربی ادب کی کتابوں کے شوقین افراد کے لیے البابطین لائبریری ایک بہترین اور
مفید جگہ ہے،جہاں آپ کے لیے قدیم ترین قلمی نسخے دستیاب ہیں وہیں جدید ترین کتابیں
بھی آپ کا انتظار کررہی ہیں۔
البابطین لائبریری کو زائرین کی آسانی کے لیے
پانچ الگ الگ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں زیرزمین حصہ، گراونڈ فلور، فرسٹ
فلور، سیکنڈ فلور اور تھرڈ فلور شامل ہیں۔
لائبریری کے احاطے میں ایک آڈیٹوریم ہے جس میں
وقت واحد میں ۴۰۰ نشستوں کی گنجائش ہے، لائبریری کے زیر زمین والے حصے میں کتب
خانے میں موجود کتابوں کی فہرست چیک کرنے کے لیے کمپیوٹرس رکھے ہوئے ہیں،ساتھ ہی
اس حصے میں لکھنے پڑھنے سے متعلق سی ڈیز اور دیگر جدید مفید ذرائع ہیں، زیر زمین
حصے میں شعراء کی ملاقات کے لیے ایک ہال بھی واقع ہے۔ کتب خانے کی پہلی منزل عربی
شعروشاعری کی کتابوں اور یونیورسٹی کے تحقیقی مقالوں کے لیے خاص ہے، دوسری منزل پر
مکتبہ عبدالکریم سعود البابطین واقع ہے، البابطین لائبریری کی دوسری منزل پر واقع
اس کتب خانے میں نادر ونایاب مخطوطات، نایاب کتابیں، قدیم مطبوعات اور مکتبہ نجات
الاھلیہ کی ساری کتابیں محفوظ ہیں۔ البابطین لائبریری کی تیسری منزل انتظامیہ اور
تکنیکی ٹیم کے لیے خاص ہے۔
البابطین سینٹرل لائبریری / اپنی پرشکوہ
وخوبصورت عمارت اور عرب دنیا میں سب سے بڑا کلچرل ڈھانچہ ہونے کی حیثیت سے کویت کی
شان اور فخر ہے، یہ کتب خانہ عربی شعر وشاعری کا دنیا کا ایک عظیم ترین خزانہ ہے،
کویت کے دامن میں موجود اس کتب خانے میں ہر متمدن عربی اور غیر عربی کے لیے عرب
شعراء کے دیوان، ان کے افکار، آراء، خوابوں اور زبان وبیان کا سمندر ہے، جس سے وہ
کسی بھی وقت آزادانہ طور پر سیراب ہوسکتا ہے۔
جس وقت عبدالعزیز البابطین کے ذہن میں البابطین
سینٹرل لائبریری برائے عربی شاعری کے قیام کا منصوبہ آیا تو اس عظیم کام کے چند
مقاصد بھی ان کے ذہن میں گردش کرنے لگے تھے، کیوں کہ بغیر مقصد کے کوئی کام نہ
موثر ہوتا ہے اور نہ اس کے انقلابی نتائج برآمد ہوتے ہیں، ان کا خیال تھا کہ شعری
تخلیق کی بنیاد پر قائم کی جانے والی اس لائبریری کے قیام کے ذریعے عربی زبان اور
عربی شناخت کو انقلابی جہت مل سکے، اس لائبریری کے قیام کے اہم مقاصد کچھ اس طرح
ہیں :
-
کویت کو ایک ایسا ثقافتی مرکز بنانا جس سے دنیا
کے ہر حصے سے علم ومعرفت کے پیاسے سیراب ہوسکیں۔
-
عربی شاعری کے بکھرے
ہوئے عظیم الشان ورثے کی تمام انواع واقسام کو جمع کرنا اور اس ورثے کے لیے ایک
پرتحفظ علمی جگہ اور ماحول فراہم کرنا۔
-
ایک ایسا کمپیوٹر نظام تیار کرنا کہ اس کے ذریعے
عربی شاعری کے ذخیرے سے محققین آسانی اور کم وقت میں استفادہ کرسکیں۔
-
عربی شعروشاعری کی
تحقیق کے لیے ایک خاص سینٹر کا قیام، جس میں ان اشعار پر تحقیق اور اس پر تجزیے کا
کام ممکن ہو جن کی ابھی تک تدوین نہیں ہوئی۔
-
عربی شاعری اور عرب
شعراء کی مکمل سرپرستی کرنا اور قومی وانسانی خوشی کے موقعوں پر مختلف تقریبات کے
اہتمام کے ذریعے عربی شاعری کے کردار کو فعال بنانا۔
-
عربی شاعری کے سفر کو
آسان بنانے اور عرب ثقافت کے فروغ کے لیے البابطین سینٹرل لائبریری اور دیگر
کلچرل مقامات اور سائنٹفک واکیڈمک سینٹرس کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات کو
مستحکم کرنا ۔
-
نئی نسلوں میں کلاسیکی
اور اصلی شعری کے احساس کو پروان چڑھانا۔
-
اور البابطین سینٹرل لائبریری
کے مقاصد میں عربی زبان کے کردار کو فعال بنانا اور اس کی خصوصیات اور امتیازات کو
تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔
البابطین سینٹرل لائبریری کا جائے وقوع دو وجہ
سے خاص اہمیت کا حامل ہے، ایک تو یہ کویت کے قلب میں ۱۲/ ہزار
مربع میٹر زمین پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں پہنچنا بہت آسان ہے، کتب خانے کے
جائے وقوع کی اہمیت کی دوسری وجہ کھلی فضاء میں خلیج عرب پر سمندر سے بالکل قریب
اس کا واقع ہونا ہے، اس جگہ کی خوبصورتی اور یہاں کی خوشگوار فضاء کتب خانے کی
اہمیت کو دوبالا کرتے ہیں۔
جنوبی سمت سے یہ لائبریری
شیخ عبداللہ الاحمد اسٹریٹ پر اور مشرقی سمت سے ابوعبیدہ اسٹریٹ پر واقع ہے، جبکہ
لائبریری کے بالکل پڑوس میں مسجد کبیر اور وزارت خارجہ اور وزارت منصوبہ بندی کی
عمارتیں ہیں۔
البابطین لائبریری کی خوبصورت عمارت قابل دید
ہے، اس عمارت کے اگلے حصے کی شکل ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے، تعمیر سے قبل اس
کے ڈیزائن کے لیے ایک مقابلہ رکھا گیا تھا، جس میں الجزیزہ کنسلٹینٹ نامی کویتی
آرکیٹیکچر دفتر نے بازی ماری تھی۔اس لائبریری کے اندرونی اور بیرونی ڈیزائن میں
کویتی اور عربی ورثے کی کئی علامتیں پائی جاتی ہیں، لائبریری میں لگائے گئے لکڑی
کے دروازے کویت کے ماضی کی تاریخ کو یاد دلاتے ہیں۔
البابطین سینٹرل لائبریری میں اس کے قیام کے
بعد سےاس کی کتابوں کی تعداد ۷۲/ ہزار تک پہنچ گئی ہے، ان
کتابوں کے علاوہ لائبریری کی ملکیت میں ورکشاپس اور سیمیناروں کے لیے تیاکردہ
کتابوں سمیت بڑی تعداد میں ڈیجیٹل کتابیں میں بھی موجود ہیں۔لائبریری کی جانب سے
وقتا فوقتا مختلف کورسیس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، سن ۲۰۰۷ سے لائبریری کی جانب
سے اب تک تقریبا ۲۶/ کورسیس منعقد کرائے گئے اور ان کورسیس سے اب تک تقریبا ۲۰۶/
افراد نے استفادہ کیا۔البابطین سینٹرل لائبریری کی جانب سے نابینا افراد کے لیے
بھی عربی اور انگریزی زبانوں میں صوتی نظام تیار کیا گیا ہے، اس سسٹم کی مدد سے
نابینا افراد عربی اور انگریزی کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ البابطین لائبریری کے
اوقات اتوار سے بدھ تک صبح آٹھ بجکر ایک بجے تک اور شام چار بجے
سے نو بجے تک جبکہ جمعرات کو صرف صبح کے اوقات میں وزٹ کی جاسکتی ہے۔








