سرورق

Tuesday, April 25, 2017

Albabtain Library


تحریر – مبصرالرحمن قاسمی

عربی شعروشاعری  کا دنیا کا منفرد کتب خانہ

البابطین سینٹرل لائبریری برائے عربی شاعری


کتب خانوں کا تصور بہت قدیم ہے اور زمانہ قدیم سے ہی کتب خانے معاشرے کی فکر اور علمی ترقی میں مددگار رہے ہیں۔ کسی بھی عہد کی مجموعی ترقی میں علم اور فکر کا ہی دخل رہا ہے۔ کتابیں علم وحکمت کا خزانہ ہوتی ہیں اور شعور وٗ ادراک کی دولت قوموں کو اسی خزانے سے حاصل ہوتی ہے۔ کسی بھی قومی معاشرے میں کتب خانوں سے ایک طرف تو امن اور دوستی کی فضا پیدا ہوتی ہے جو قوموں کے افراد کے ذہنوں کو تخلیقی اور تعمیری رجحانات دیتی ہے اور وہ تہذیب وتمدن سے آشنا ہو کر اتحاد و اتفاق سے زندگی گزارنے کا فن سیکھتے ہیں۔

کتب خانے ذہنی تفریح کا ایک تعمیری ذریعہ ہوتے ہیں۔ انسان کتابوں کی دُنیا میں نہ صرف اپنی کلفتوں کو بھول جاتا ہے بلکہ اُس کی سوچ میں وسعت بھی آجاتی ہے، اُس کا دامن عِلم کے ساتھ ساتھ فضیلت کے موتیوں سے بھر جاتا ہے کیونکہ اُس کے اندر تقوے کے ایک شعور پیدا ہوتا ہے ۔ جس قوم کے افراد علم و فَضل کی دولت سے بہرہ وَر ہوتے ہیں وہ سب سے پہلے اپنے باپ دادا کی اُن تصنیفات کو کُتب خانوں میں محفوظ کر لیتے ہیں جن کو زمانے کی گردش سے خطرہ ہوتا ہے، ویسے بھی تاریخ اُنہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہے۔

کتابیں بہترین رفیق ہوتی ہیں۔ انسان انسان کو فریب دیتا ہے مگر کتاب کبھی دھوکا نہیں دیتی۔ کتاب کا ایک ایک ورق واضح، کھلا اور سچا ہوتا ہے۔ کتاب زندگی کی تلخیوں میں حلاوت  اور مٹھاس پیدا کرتی ہے اِس سے وقت بہلتا، احساس سنورتا، فکر نکھرتا، اور ذوق شگفتہ ہوتا ہے۔ کتاب ایک بہترین ناصح، ایک شفیق دوست اور ایک معتبر رہنما ہے۔ کتاب علم کے نور اور قلم کی عظمت کا ایک خوبصورت اظہار ہے اور جو لوگ علم اور قلم کے اِس سرچشمے سے خود کو وابستہ کر لیتے ہیں وہ کبھی گمراہ نہیں ہوتے۔ الغرض کتب خانے ایک قومی ضرورت ہیں، تنہائی کی نعمت ہیں، ادب اور فن کے خزانے ہیں، علم کا ایک سمندر ہیں کہ موجیں مار رہا ہوتا ہےاور ہر ایک کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی ضرورت اور اپنے ظرف کے مطابق اپنی پیاس بجھاتا چلا جائے۔

کتب بینی کے شائقین اور عربی زبان میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے البابطین سینٹرل لائبریری ایک شاندار جگہ ہے، یہ کتب خانہ عربی شعروشاعری کا دنیا کا منفرد کتب خانہ ہے، جو ایک طرف عربی شعروشاعری کی قدیم وجدید کتابوں کی پناہ گاہ ہے تو دوسری طرف اس کتب خانے نے جدید عربی شعراء کے کلام کے تحفظ کا بیڑہ اٹھارکھا ہے، اس کتب خانے کو ہم البابطین سینٹرل لائبریری برائے عربی شعروشاعری کے نام سے جانتے ہیں۔یہ کتب خانہ کویت میں واقع ہے،  آئیے ہم آپ کو دنیا کی اس عظیم الشان لائبریری کی سیر کراتے ہیں۔

 البابطین سینٹرل لائبریری کی بنیاد ۲۲ شوال ۱۴۲۲ ھ مطابق ۶ جنوری ۲۰۰۲ ء کو اس وقت کے نائب وزیراعظم اول اور حالیہ کویتی امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح کی سرپرستی میں عمل میں آئی تھی۔ البابطین لائبریری / دنیا میں عربی شاعری کا پہلا منفرد کتب خانہ ہے، عبدالعزیز سعود البابطین اس عظیم الشان کتب خانے کے بانی ہیں، دراصل اس کتب خانے کا قیام عبدالعزیز البابطین کی عربی شاعری وادب سے گہری وابستگی کا نتیجہ ہے۔ اس کتب خانے کی دنیا میں مقبولیت کے بعد عبدالعزیز البابطین نے عرب شعراء کی حوصلہ افزائی کے لیے اسی کتب خانے کے پرچم تلے عبدالعزیز سعود البابطین ایوارڈ فاونڈیشن برائے شعری تخلیق کی بنیاد رکھی، اسی طرح اس کتب خانے کی سرگرمیوں میں علم عروض کے ورکشاپ منعقد کرائے اور اسی کتب خانے کے نام سے کئی قدیم وجدید شعری مجموعوں کی اشاعت کی۔

اس اعتبار سے عربی شعروشاعری کے میدان میں البابطین لائبریری کو دنیا کے تمام کتب خانوں کے درمیان ایک منفرد پہچان حاصل ہوگئی ہے۔ آج البابطین لائبریری نہ صرف قصیدہ گوشعراء کے لیے پناہ گاہ بنی ہوئی ہے بلکہ قصیدے کے راوی، مدون، معلم اور محقق کی آماجگاہ ہے، یہاں قدیم وجدید عربی شاعری کا شوق رکھنے والوں کی ہمت افزائی ہوتی ہے اور عربی شاعری کو نیا رنگ، نئی جہت اور تازہ روح فراہم ہوتی ہے۔

البابطین لائبریری تمام جدید ذرائع سے آراستہ ہے، عربی ادب کی کتابوں کے شوقین افراد کے لیے البابطین لائبریری ایک بہترین اور مفید جگہ ہے،جہاں آپ کے لیے قدیم ترین قلمی نسخے دستیاب ہیں وہیں جدید ترین کتابیں بھی آپ کا انتظار کررہی ہیں۔

البابطین لائبریری کو زائرین کی آسانی کے لیے پانچ الگ الگ شعبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں زیرزمین حصہ، گراونڈ فلور، فرسٹ فلور، سیکنڈ فلور اور تھرڈ فلور شامل ہیں۔

لائبریری کے احاطے میں ایک آڈیٹوریم ہے جس میں وقت واحد میں ۴۰۰ نشستوں کی گنجائش ہے، لائبریری کے زیر زمین والے حصے میں کتب خانے میں موجود کتابوں کی فہرست چیک کرنے کے لیے کمپیوٹرس رکھے ہوئے ہیں،ساتھ ہی اس حصے میں لکھنے پڑھنے سے متعلق سی ڈیز اور دیگر جدید مفید ذرائع ہیں، زیر زمین حصے میں شعراء کی ملاقات کے لیے ایک ہال بھی واقع ہے۔ کتب خانے کی پہلی منزل عربی شعروشاعری کی کتابوں اور یونیورسٹی کے تحقیقی مقالوں کے لیے خاص ہے، دوسری منزل پر مکتبہ عبدالکریم سعود البابطین واقع ہے، البابطین لائبریری کی دوسری منزل پر واقع اس کتب خانے میں نادر ونایاب مخطوطات، نایاب کتابیں، قدیم مطبوعات اور مکتبہ نجات الاھلیہ کی ساری کتابیں محفوظ ہیں۔ البابطین لائبریری کی تیسری منزل انتظامیہ اور تکنیکی ٹیم کے لیے خاص ہے۔

البابطین سینٹرل لائبریری / اپنی پرشکوہ وخوبصورت عمارت اور عرب دنیا میں سب سے بڑا کلچرل ڈھانچہ ہونے کی حیثیت سے کویت کی شان اور فخر ہے، یہ کتب خانہ عربی شعر وشاعری کا دنیا کا ایک عظیم ترین خزانہ ہے، کویت کے دامن میں موجود اس کتب خانے میں ہر متمدن عربی اور غیر عربی کے لیے عرب شعراء کے دیوان، ان کے افکار، آراء، خوابوں اور زبان وبیان کا سمندر ہے، جس سے وہ کسی بھی وقت آزادانہ طور پر سیراب ہوسکتا ہے۔

جس وقت عبدالعزیز البابطین کے ذہن میں البابطین سینٹرل لائبریری برائے عربی شاعری کے قیام کا منصوبہ آیا تو اس عظیم کام کے چند مقاصد بھی ان کے ذہن میں گردش کرنے لگے تھے، کیوں کہ بغیر مقصد کے کوئی کام نہ موثر ہوتا ہے اور نہ اس کے انقلابی نتائج برآمد ہوتے ہیں، ان کا خیال تھا کہ شعری تخلیق کی بنیاد پر قائم کی جانے والی اس لائبریری کے قیام کے ذریعے عربی زبان اور عربی شناخت کو انقلابی جہت مل سکے، اس لائبریری کے قیام کے اہم مقاصد کچھ اس طرح ہیں :

-          کویت کو ایک ایسا ثقافتی مرکز بنانا جس سے دنیا کے ہر حصے سے علم ومعرفت کے پیاسے سیراب ہوسکیں۔

-         عربی شاعری کے بکھرے ہوئے عظیم الشان ورثے کی تمام انواع واقسام کو جمع کرنا اور اس ورثے کے لیے ایک پرتحفظ علمی جگہ اور ماحول فراہم کرنا۔

-          ایک ایسا کمپیوٹر نظام تیار کرنا کہ اس کے ذریعے عربی شاعری کے ذخیرے سے محققین آسانی اور کم وقت میں استفادہ کرسکیں۔

-         عربی شعروشاعری کی تحقیق کے لیے ایک خاص سینٹر کا قیام، جس میں ان اشعار پر تحقیق اور اس پر تجزیے کا کام ممکن ہو جن کی ابھی تک تدوین نہیں ہوئی۔

-         عربی شاعری اور عرب شعراء کی مکمل سرپرستی کرنا اور قومی وانسانی خوشی کے موقعوں پر مختلف تقریبات کے اہتمام کے ذریعے عربی شاعری کے کردار کو فعال بنانا۔

-         عربی شاعری کے سفر کو آسان بنانے اور عرب ثقافت کے فروغ کے لیے البابطین سینٹرل لائبریری اور دیگر کلچرل مقامات اور سائنٹفک واکیڈمک سینٹرس کے درمیان تعاون پر مبنی تعلقات کو مستحکم کرنا ۔

-         نئی نسلوں میں کلاسیکی اور اصلی شعری کے احساس کو پروان چڑھانا۔

-         اور البابطین سینٹرل لائبریری کے مقاصد میں عربی زبان کے کردار کو فعال بنانا اور اس کی خصوصیات اور امتیازات کو تحفظ فراہم کرنا شامل ہے۔

البابطین سینٹرل لائبریری کا جائے وقوع دو وجہ سے خاص اہمیت کا حامل ہے، ایک تو یہ کویت کے قلب میں ۱۲/ ہزار مربع میٹر زمین پر واقع ہے، جس کی وجہ سے یہاں پہنچنا بہت آسان ہے، کتب خانے کے جائے وقوع کی اہمیت کی دوسری وجہ کھلی فضاء میں خلیج عرب پر سمندر سے بالکل قریب اس کا واقع ہونا ہے، اس جگہ کی خوبصورتی اور یہاں کی خوشگوار فضاء کتب خانے کی اہمیت کو دوبالا کرتے ہیں۔

جنوبی سمت سے یہ لائبریری شیخ عبداللہ الاحمد اسٹریٹ پر اور مشرقی سمت سے ابوعبیدہ اسٹریٹ پر واقع ہے، جبکہ لائبریری کے بالکل پڑوس میں مسجد کبیر اور وزارت خارجہ اور وزارت منصوبہ بندی کی عمارتیں ہیں۔

 البابطین لائبریری کی خوبصورت عمارت قابل دید ہے، اس عمارت کے اگلے حصے کی شکل ایک کھلی ہوئی کتاب کی طرح ہے، تعمیر سے قبل اس کے ڈیزائن کے لیے ایک مقابلہ رکھا گیا تھا، جس میں الجزیزہ کنسلٹینٹ نامی کویتی آرکیٹیکچر دفتر نے بازی ماری تھی۔اس لائبریری کے اندرونی اور بیرونی ڈیزائن میں کویتی اور عربی ورثے کی کئی علامتیں پائی جاتی ہیں، لائبریری میں لگائے گئے لکڑی کے دروازے کویت کے ماضی کی تاریخ کو یاد دلاتے ہیں۔

البابطین سینٹرل لائبریری میں اس کے قیام کے بعد سےاس کی کتابوں کی تعداد ۷۲/ ہزار تک پہنچ گئی ہے، ان کتابوں کے علاوہ لائبریری کی ملکیت میں ورکشاپس اور سیمیناروں کے لیے تیاکردہ کتابوں سمیت بڑی تعداد میں ڈیجیٹل کتابیں میں بھی موجود ہیں۔لائبریری کی جانب سے وقتا فوقتا مختلف کورسیس کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے، سن ۲۰۰۷ سے لائبریری کی جانب سے اب تک تقریبا ۲۶/ کورسیس منعقد کرائے گئے اور ان کورسیس سے اب تک تقریبا ۲۰۶/ افراد نے استفادہ کیا۔البابطین سینٹرل لائبریری کی جانب سے نابینا افراد کے لیے بھی عربی اور انگریزی زبانوں میں صوتی نظام تیار کیا گیا ہے، اس سسٹم کی مدد سے نابینا افراد عربی اور انگریزی کی کتابیں پڑھ سکتے ہیں۔ البابطین لائبریری کے اوقات اتوار سے بدھ تک صبح آٹھ بجکر ایک بجے تک اور شام چار بجے سے نو بجے تک جبکہ جمعرات کو صرف صبح کے اوقات میں وزٹ کی جاسکتی ہے۔

Masjid E Kabeer Kuwait


تحریر: مبصرالرحمن قاسمی

مسجد کبیر- اسلامی فن تعمیر کا شاہکار

آج ہم کویت کی سب سے بڑی مسجد "مسجد کبیر"   پہنچے ہیں۔
کویت کی مساجد کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے، اس خلیجی ملک میں مساجد کی حسن تعمیر اور زیبائش وآرائش کا اس قدر اہتمام کیا جاتا ہے کہ جس کی نظیر ہمیں دیگر ملکوں میں بہت کم ملتی ہے، مسجدوں کی خوبصورتی  اورحسن تعمیر میں دنیا کے ممالک کے درمیان کویت کو بطور نمونہ دیکھا جاتا ہے، تعمیر، انتظامات، نظم ونسق اور منصوبہ بندی میں کویت کی مساجد دنیا بھر میں قابل تقلید ہیں۔

مسجد کبیر کویت کی سب سے بڑی اور سب سے خوبصورت مسجد ہے، اسی طرح دینی وثقافتی سرگرمیوں کا یہ کویت کا  اہم مرکز ہے، یہ مسجد کویت کے قلب میں واقع  ایک شاندار اسلامی نشان کا کردار ادا کررہی ہے۔

سن 1979 کے اواخر میں مسجد کبیر کی تعمیر کا منصوبہ شروع ہوا تھا، اور اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کے لیے 245000 مربع میٹر زمین استعمال کی گئی، مسجد کی تعمیر پر 14 ملین کویتی دینار یعنی تقریبا 43 ملین امریکی ڈالر کا خرچ آیا، اور سن 1986 میں اس کا افتتاح ہوا، آج یہ مسجد خطہ خلیج عرب میں فن تعمیر کا ایک عظیم الشان اور خوبصورت شاہکار ہے اور کویت کے قلب میں واقع ایک مینار نور ہے۔

مسجد  کبیر کی تعمیر کا خیال مرحوم امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر ہوا جب آپ نے اقتدار سنبھالا اور ملک کے تمام انتظامی امور پر اطمینان حاصل کرلیا ، امیر شیخ جابر نے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو سال بعد اس کام کا آغاز کیا۔ ان کی خواہش تھی کہ مسجد کبیر دنیا کے لیے اسلامی ثقافت اور فن تعمیر کا ایک شاہکار بنے یہی وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی انھوں نے خود کی۔

مسجد کی تعمیر میں عالمی شہرت یافتہ انجینئرس، معمار اور مزدوروں نے حصہ لیا، جن میں بھارت، شام، اٹلی، مراکش، ترکی اور مصر کے مایہ ناز پچاس انجینئرس شامل ہیں، جو مسلسل چھ سال تک مسجد کی درودیوار کی نوک پلک کو خوبصورت سے خوبصورت ترین بنانے میں مصروف رہے۔

مسجد کبیر دارالحکومت کے وسط میں سیف پیلس اور اسمبلی ہاوس کے نزد واقع ہے، اس عظیم الشان مسجد سے کچھ ہی دوری پر کویت کی قدیم ترین مسجد "مسجد خلیفہ"، چند میٹر کے فاصلے پر ایکسینج مارکیٹ اور گولڈ مارکیٹ وغیرہ واقع ہیں۔ مسجد کے ایک جانب مرکزی چوراہا واقع ہے۔مسجد کبیر متعدد حصوں پر مشتمل ہے، مسجد کا ہر حصہ تعمیری اعتبار سے اپنے آپ میں بے مثال ہے، اور ہر حصہ قدیم وجدید فن تعمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسجد میں نماز کے لیے تین عظیم الشان ہال ہیں۔ ایک مرکزی ہال ہے جو جمعہ، عیدین اور رمضان میں کھولا جاتا ہے، دوسرا ہال روزانہ نماز کے لیے خاص ہے جبکہ ایک ہال خواتین کے لیے خاص ہے۔

مرکزی ہال کے بیچ وبیچ ایک عظیم الشان گنبد ہے، جو دنیا کی مساجد میں سب سے بڑا گنبد شمار کیا جاتا ہے، یہ گنبد مسجد کے فرش سے 43 میٹر اونچا ہے جبکہ اس کی گولائی 26 میٹر ہے، گنبد میں چاروں جانب سے 144 کھڑکیاں نصب ہیں، جبکہ یہ گنبد چار بڑے بڑے ستونوں پر قائم ہے، جن میں سے ہر ایک کی لمبائی 22 میٹر ہے، گنبد کی کھڑکیوں میں لگے سفید شیشوں میں سے سورج کی دھیمی روشنی مسجد کے اندر پڑتی ہے، جو گنبد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔

گنبد میں لگے نیلے رنگ کے اصفہانی سیرامک پر خط ثلث کے بہترین نمونے کندہ ہیں، گنبد کے بالکل وسط میں عالمی شہرت یافتہ خطاط محمد الحداد نے اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے ہیں، انھوں نے نیلے رنگ کے سورج نما گول سیرامک ٹائلس پر اللہ تعالی کے ننانوے نام خط کوفی میں لکھے ہیں، جنھیں اسماء حسنی کہا جاتا ہے۔

اس پرشکوہ گنبد کو 4 چھوٹے چھوٹے گنبدوں نے احاطہ کیا ہوا ہے، جن پر مراکشی ڈیزائن کیا گیا ہے، ان چھوٹے چھوٹے گنبدوں میں اطالوی فانوس لٹکے ہوئے ہیں، اور ہر فانوس میں سو سے زیادہ لائٹ ہیں، جبکہ یہ فانوس لمبائی میں 7.5 میٹر اور چوڑائی میں 3.5 میٹر ہیں اور ہر ایک فانوس کا وزن 1000 کیلوگرام ہے۔

مسجد کبیر کے مرکزی ہال کی روشنی کے لیے صرف ان ہی فانوسوں کا سہارا نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان کے علاوہ مسجد کے دیواروں پر اور چھت پر جرمن فانوس لگے ہیں جن کی تعداد 80 ہیں، یہ فانوس پورے ہال میں پھیلے ہوئے ہیں، جو آسمان میں بڑے ستاروں کے درمیان چھوٹے چھوٹے تاروں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ان کی چمک اور تابانی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے ۔

یقینا  محراب و منبر  ہر مسجد میں ایک نمایاں جگہ ہوتی ہے،جہاں باہر سے دیکھنے والوں کے لئے مسجد کا مینار اور گنبد مرکز نگاہ بن جاتے ہیں وہیں مسجد کے اندر محراب و منبر ہی وہ دو مقام ہیں جو ہر ایک کی توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ مسجد کبیر کا محراب دیدنی ہے، یہ محراب جہاں اسلامی فن معماری کا آئینہ دار ہے وہیں اس کا نیلگوں اور سرخ رنگ کویتی آب وہوا کا غماز ہے۔ فنکاروں نے محراب کے اندر کی جانب سنگ تراشی کے ذریعے خوبصورت گل کاری کا کام کیا ہے۔ اس محراب پر قوس کی شکل میں پچی کاری کے ذریعے خوبصورت رنگین نقش ونگار بنائے گئے ہیں جس کےگرد کوفی رسم الخط میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔ محراب کی ایک جانب منبر ہے  جو قیمتی ساگوان کی لکڑی  سے بنایا گیا ہے۔محراب کے بائیں جانب سے منبر کا راستہ ہے، منبر پر چڑھنے کے لیے محراب کے پیچھے قبلے کی دیوار کے اندر چھپی  14 سیڑھیاں ہیں ، منبر کی اونچائی تقریبا دو میٹر ہے، اس منبر کو  ماہر فنکاروں نے طویل مدت میں مکمل کیا تھا۔ منبر میں زیادہ آب و تاب پیدا کرنے کے لئے اسے مختلف نقش ونگار سے مرصع کیا گیا ہے۔

مسجد کبیر میں جملہ 21 دروازے ہیں، جن میں 14 مشرق کی جانب ، چار جنوب کی جانب اور 3 شمالی سمت میں ہیں۔ یہ تمام دروازے ہندوستان سے لائی گئی ساگوان کی لکڑی سے تیار کیے گئے ہیں، ان دروازوں پر مختلف خطوں میں قرآنی آیات کندہ ہیں، ساتھ ہی ان پر ہندوستان کے ماہر فنکاروں نے اعلی قسم کا ڈیزائن کیا ہے۔

مسجد کبیر کے شمالی اور جنوبی حصے کی چھت میں فائبر گلاس کے گنبد لگائے گئے ہیں، جو نہ صرف مسجد کے اندرونی حصے میں روشنی فراہم کرتے ہیں بلکہ ان گنبدوں میں استعمال کیے گئے اعلی قسم کے فائبر گلاس گرمی کی سختی کو بھی کم کرتے ہیں۔ شمالی وجنوبی حصے میں جملہ 44 گنبد ہیں، جو بیک وقت روشنی بھی فراہم کرتے ہیں اور تعمیر میں جمالیاتی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔

مسجد کبیر کا وہ ہال جو سال بھر پنج وقتہ نمازوں کے لیے مخصوص ہے مرکزی ہال سے متصل اور مشرقی سمت میں بالکل اس کے  پیچھے ہے، اس ہال میں بیک وقت 500 افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، یہ ہال پنج وقتہ نمازوں، روزہ مرہ کے دروس اورلیکچرس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ہال میں بھی ساگوان سے تیارکردہ ایک خاص محراب ہے، محراب کی دیوار قوس نما ہے، جسے مراکشی ڈیکور سے مزید کیا گیا ہے، اس ہال کی چھت پر بھی 9 عدد جرمن فانوس لٹکے ہوئے ہیں، جو اپنی خوبصورتی میں لاجواب ہیں۔

مسجد کبیر کے "مصلی یومی" یعنی سال بھر پنج وقتہ نمازوں کے لیے خاص ہال کے اوپر خواتین کے لیے ایک مخصوص ہال ہے، جس میں بیک وقت 1000 خواتین نماز ادا کر سکتی ہیں، اس ہال کے قبلے کی طرف والی دیوار میں لکڑی کی خوبصورت کھڑکیاں ہیں، جو مسجد کبیر کے مرکزی ہال میں کھلتی ہیں، یہاں سے خواتین امام وخطیب کو دیکھ سکتی ہیں۔ خواتین کے اس مصلے میں بھی روشنی کے لیے 18 فانوس نصب ہیں، اس ہال میں جانے کے لیے جنوبی سمت مستقل طور پر ایک دروازہ ہے، خواتین کو وضووغیرہ کے لیے اسی سے متصل وضوخانہ اور طہارت خانہ بنایا گیا ہے۔

مسجد کبیر کا مینار گویا  آسمان سے باتیں کرتا ہے، جو مسجد کے شمال مغربی سمت واقع ہے، اس کی بنیادوں کو متعدد چھوٹے چھوٹے سوتوں نے گھیرے ہوئے ہیں، مسجد کبیر کا یہ مینار 72 میٹر بلند ہے، مینار کے تہائی حصے پر متعدد ستونوں سے گھرا بیت الموذن ہے، جہاں سے موذن اذان دیتا ہے، اس کے اوپر ایک چھت ہے اور پھر چھت کے اوپر نصف قطر مینار ہے اور اس کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد ہے، اس گنبد پر ایک بڑا چاند ہے جو اسلامی فن تعمیر کی ایک اہم علامت ہے، مسجد کبیر کا یہ خوبصورت مینار مختلف الاضلاع ہے، اس کے اضلاع کی تعداد بارہ ہے، مینار میں طرطوس کے اعلی اور انتہائی نفیس پتھر کا استعمال کیا گیا ہے، اس مینار میں اوپر تک جانے کے لیے دیگر مساجد کے برخلاف لفٹ کا نظم ہے۔

مسجد کے مشرقی جانب مسجد کا وسیع وعریض صحن ہے، جسے تین جانب سے برآمدوں نے گھیرے ہوئے ہیں، یہ برآمدے 8 میٹر بلند ستونوں پر قائم ہیں، جن کی چھتوں میں قدیم شکل والے جدید فانوس لٹکے ہوئےہیں۔ ان برآمدوں کی لمبائی 760 میٹر ہے، جو گذرنے والوں کو بارش اور دھوپ سے محفوظ رکھتے ہیں، ان کی دیواروں پر اعلی قسم کی ٹائلس لگائی گئی ہیں، یہ برآمدے بسا اوقات نماز کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ 

مسجد کے مرکزی ہال کے مشرقی جانب ایک بڑا ہال ہے جو برآمدوں تک پھیلا ہوا ہے، اس ہال کی چھت پر قندیل نما دمشقی فانوس لٹکے ہوئے ہیں۔

مسجد کبیر میں مرکزی صحن کے علاوہ چھوٹے سائز کے مزید دو صحن ہیں، ان دونوں صحنوں کی زمین میں قدرتی رنگ والا بھارت کا  کوٹا پتھر لگایا گیا ہے، جو قدیم کویتی ماحول کے رنگ کے مشابے ہے۔

مشرقی صحن کے شمالی اور جنوبی جانب وضوخانے اور طہارت خانے بنائے گئے ہیں، جن میں 133 وضوخانے اور 78 حمام ہیں، وضوخانوں کی دیواروں میں اصفہانی سیرامک کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ وضو خانے کی بیٹھکوں کے لیے اطالوی سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے اور وضوخانے کی دیواروں میں قدرتی روشنی اور تازہ ہوا کے لیے کشادہ کھڑکیاں لگائی گئی ہیں۔

مسجد کبیر کے وسیع وعریض صحن کا زیریں حصہ بھی دیدنی ہے، یہ حصہ پانچ منزلہ ہے، جس میں بیک وقت 550 گاڑیوں کے رکنے کی گنجائش ہے، ان پانچ منزلہ زیریں حصے میں جگہ جگہ لفٹ کا نظم ہے جن کے ذریعے لوگ صحن اور برآمدوں میں پہنچتے ہیں۔

مسجد کبیر کے مرکزی ہال کے شمال مغربی سمت سے متصل قبلے کی طرف امیری ہال ہے، یہ ہال انواع واقسام کے قیمتی اور خوبصورت چیزوں سے مزین ہے، یہ ہال کویتی امیر کے لیے خاص ہے، قبلے کی دیوار میں موجود دروازے سے امیر بلاد اس ہال میں داخل ہوتے ہیں، اس ہال میں امیر بلاد مہمانوں کا استقبال اور دینی تقریبات کے موقع پر استراحت فرماتے ہیں۔

مسجد کبیر کا ٹیلی فون فتوی سینٹر اسلامی دنیا کا ایک بے مثال مرکز ہے، اس سینٹر میں باصلاحیت اور ماہر علماء کی ٹیم مستقل موجود ہوتی ہے، علماء کی اس ٹیم سے دن اور رات کے کسی بھی وقت میں اسلام سے متعلق سوالات پوچھے جاتے ہیں، علماء سوال پوچھنے والوں کو براہ راست فورا اطمینان بخش جواب دیتے ہیں، اگر جواب مشکل ہوتو علماء کی یہ ٹیم وزارت اوقاف کی فتوی ٹیم سے سائل کی فون لائن کو فورا جوڑدیتی ہے۔ مسجد کبیر کے اس فتوی سینٹر میں قیام کے صرف پہلے تین سال میں 160 ہزار سے زیادہ دینی سوالات کے جوابات دیئے گئے تھے، فتون سینٹر پر کال کرنے کےلیے 149 نمبر خاص ہے ، اس نمبر پر آپ براہ راست فون کرکے اپنے دینی مسائل کے جوابات حاصل کرسکتے ہیں۔

مسجد کبیر میں دوکتب خانے بھی ہیں، ایک کتب خانہ اہل علم اور محققین کے لیے خاص ہے، اس میں مطالعے کے لیے خصوصی خلوت گاہیں بنائی گئی ہیں۔ جبکہ دوسرا کتب خانہ عام ہے، اس میں عالمی زبانوں میں اسلام سے متعلق مختلف کتابوں، کیسٹوں اور سی ڈیز کا ذخیرہ رکھا گیا ہے، زائرین کو کتب خانے کی جانب سے مفت کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں اور انھیں اسلام کا تعارف بھی کرایا جاتا ہے۔

دونوں کتب خانوں کے بغل میں ایک ہال ہے، جس میں 250 نشستوں کی گنجائش ہے۔ اس ہال میں خصوصی سیمنار اور لیکچرس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

مسجد کبیرانتظامیہ انٹرنیٹ پر بھی سرگرم ہے، مسجد کبیر کی ایک مخصوص ویب سائٹ ہے، اس ویب سائٹ سے دنیا بھر میں 40 ملین سے زیادہ لوگ استفادہ کرتے ہیں، اس ویب سائٹ پر رمضان المبارک میں مسجد کبیر کی نمازوں خصوصا قیام لیل نشر کی جاتی ہے۔

مسجد کبیر کو خوبصورت پھولوں، کھجور کے درختوں اور سبز ہریالی والے باغ نے گھیرے ہوئے ہے۔ اس باغ کا رقبہ 15 ہزار مربع میٹر ہے، جس میں جگہ جگہ 9 عدد جھرنے نصب کیے گئے ہیں۔ کویت کی یہ مسجد اپنی اندرونی اور بیرونی خوبصورتی میں دنیا کی عظیم الشان مساجد میں شامل ہے۔
 

 

Islamic Medicine Center


 
تحریر: مبصرالرحمن قاسمی
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر
 
آج ہم کویت کی سرزمین پر واقع اسلامی طب کاعظیم الشان مرکز  کویت اسلامک میڈیسن سینٹرمیں ہیں۔

طب اور علاج ومعالجہ کو  دین اسلام میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، اسلام میں طب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا یا جاسکتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت کے ابتدائی عہد میں، جب کہ اسلامی حکومت کا کوئی محکمہ اور دفتر نہیں تھا، مسجد نبوی کے صحن میں ایک شفا خانہ موجود تھا اور ایک انصاری خاتون حضرت رفیدہ اس شفاخانہ کی نگراں تھیں، جو بلا عوض خدمت کیا کرتی تھیں، غزوہٴ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ زخمی ہوئے تو آپ نے فرمایا، اس کو رفیدہ کے خیمہ میں پہنچا دو، حضرت رفیدہ کے تذکرہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی میں عورتیں بھی فن طب میں خاص مہارت رکھتی تھیں۔ ذہبی کی تاریخ الاسلام میں حضرت عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ ”میں نے حضرت عائشہ سے بڑا طب میں کوئی عالم نہیں دیکھا“مختلف کتب حدیث میں ہے کہ حضرات صحابیات جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کیا کرتی تھیں۔

مسلمانوں نے علم طب کو اسی طرح ترقی اور عروج بخشا ہے جس طرح انہوں نے دیگر علوم کو بام عروج تک پہنچایا ہے،آپ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں بڑے بڑے طبیب موجود تھے، جو لوگوں کو طب کی تعلیم دیتے تھے،حارث بن کلدہ ثقفی عرب کے بڑے طبیبوں میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے فارس کے علاقے جندی شاپور میں طب کی تعلیم حاصل کی تھی،کئی صحابہ کو آپ نے حارث بن کلدہ سے علاج ومعالجہ کا مشورہ دیا تھا،انہوں نے آپ کے دست حق پر اسلام قبول کرلیا تھا، ضماد بن ثعلبہ الازدی مشہور صحابی ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد اپنے معالج ہونے کا تذکرہ بھی کیا تھا، خود آپ صلی الله علیہ وسلم روحانی طبیب ہونے کے ساتھہ جسمانی طبیب بھی تھے،آپ صلی الله علیہ وسلم کے طبی ارشادات بڑی اہمیت کے حامل ہیں،آپ صلی الله علیہ وسلم سے نظری اور عملی دونوں طرح کے علاج مروی ہیں، احادیث اور سیرت کی کتابوں میں باقاعدہ ”کتاب الطب“ موجود ہے، طب نبوی کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں، جس میں مفردات اور مرکبات سے علاج کی تفصیل موجود ہے، علامہ ابن القیم کی ”الطب النبوی“ اورجلال الدین سیوطی کی”الطب النبوی للسیوطی“ اس سلسلے میں بصیرت افروز ہے۔

طب سے مسلمانوں کی گہری وابستگی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اموی دور کے آغاز ہی میں جب ترجمہ نگاری کا رواج ہوا اور مختلف علوم وفنون کی کتابیں یونانی،عبرانی،سریانی، سنسکرت زبانوں سے عربی قالب میں ڈھالی گئیں تو طب اور فلسفہ کی سب سے زیادہ کتابیں ترجمہ کرائی گئیں، عباسی دور بالخصوص مامون کے عہد میں بے شمار یونانی کتابوں نے عربی کا لباس زیب تن کیا، اس طرح مسلمانوں کی طب سے دلچسپی بڑھنے لگی، آج جویونانی اطباء کی کتابوں میں ان کے اقوال اور ان کے تجربات موجود ہیں وہ سب مسلمانوں کے رہین منت ہیں کہ مسلمانوں نے اس کو عربی جامہ پہنا کر اور اس میں اضافہ وترمیم کر کے اسے زندہ جاوید بنادیا، ورنہ حکمائے یونان کے فلسفے اور طبی کارنامے دفتر گم گشتہ ہوچکے ہوتے،عہد امویہ اور عباسیہ میں بالخصوص بقراط اور جالینوس جیسے یونانی اطباء کی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ کویت میں اسلامی طب کی اسی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک عظیم الشان اسلامک طب سینٹر کا قیام عمل میں آیا، جس کا مقصد اکابرین فن کی تحقیقات اور کارناموں سے دنیا کے انسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے۔

کویت کا "اسلامی طب مرکز" کویت سٹی کے الصباح الطبیہ علاقے میں کویتی تہذیب کا ایک روشن مینار ہے۔ 21/ فروری 1987 کو مرحوم امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کی موجودگی میں ۲۶ ویں قومی دن کے موقع پر اسلامی طب مرکز کا افتتاح عمل میں آیا۔ اسلامی طب مرکز کے افتتاح کی اس تقریب میں مرحوم امیر شیخ سعد العبداللہ رحمہ اللہ اور حالیہ امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح موجود تھے۔

اس عظیم الشان اسلامی طب مرکز کی تعمیر فرزندان کویت خالد یوسف المرزوق اور ان کی اہلیہ لولوہ النصار کے عطیے سے ہوئی،جنھوں نے سینٹر کی تعمیر اور اس سینٹر کی ضروریات کے لیے 7.7 لاکھ دینار کا عطیہ دیا تھا۔

لیکن بدقسمتی سے اس خوبصورت اور عظیم الشان مرکز کو عراقی قبضے کے دوران زبردست نقصان ہوا، لہذا ملک کی آزادی کے بعد اسلامی طب سینٹر کی ترمیم پر ایک لاکھہ دینار سے زیادہ کا خرچ آیا تھا۔

آج اسلامی طب سینٹر دنیا بھر میں علم ومعرفت اور ورثہ کا اسلامی رنگ میں رنگا ایک عظیم الشان طبی قلعہ تصور کیا جاتا ہے، جو کویت کے مرتبہ ومقام ، اس کے تہذیبی کردار اور فرزندان کویت کے عطا ووفا کا آئینہ دار ہے۔

طب سینٹر کے مرکزی دروازوں پر قرآن مجید کی آیتیں کندہ ہیں، ان دروازوں پر پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیاری بات بھی نقش ہے : ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سے اچھا ہوجاتا ہے۔

اسلامی طب مرکز/ اسی حدیث کی بنیاد پر جڑی بوٹیوں اور نباتات کے ذریعے علاج ومعالجہ کرتا ہے۔

اسلامی طب مرکز کی عمارت ۶/ ہزار ایک سو میٹر مربع جگہ پر واقع ہے، جس کی تعمیر میں چار سال کا عرصہ لگا۔ یہ سینٹر نہ صرف انسان کا جسمانی علاج کرتا ہے بلکہ سماجی، روحانی اور فکری علاج بھی کرتا ہے، ساتھ ہی یہ سینٹر دنیا بھر میں طبی انقلاب کی بنیادوں کو رکھنے میں مسلمان اطباء کی خدمات کو منظر عام پر لانے کے مقصد سے قائم کی گئی اسلامی تنظیم کا مستقل دفتر بھی ہے ۔ اسلامی طب مرکز چار اہم سیکشن پر مشتمل ہے۔  جن میں طب سیکشن، ادویہ کی تحقیق سے متعلق سیکشن، دواسازی سیکشن اور مسجد۔

اسلامی طب سینٹر کی مسجد دیدنی ہے، اس مسجد کا چمکتا ہوا سنگ مرمر کا مینار اور سنہرے رنگ کا گنبد اسلامی فن تعمیر کی خوبصورتی کو بیان کرتے ہیں۔ تین منزلہ یہ مسجد دو ہزار چھ سو مربع میٹر زمین پر واقع ہے، جس میں وقت واحد میں ۱۵سو نمازیوں کے لیے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔

کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی عمارت دو منزلہ ہے، بالائی منزل پر کانفرنس ہال ہے، یہ ہال ۲۱۴۳ میٹر مربع رقبے پر مشتمل ہے جس میں تقریبا ۴۰۰ نشستوں کی گنجائش ہے، یہ کانفرنس ہال تمام جدید سمعی وبصری ذرائع سے آراستہ ہے، ساتھ ہی اس ہال سے لگ کر لیباریٹریز، انتظامی دفاتر اور ایک میوزیم ہے۔ پہلی منزل کے درمیانی حصے کے ایک ہال میوزیم کے لیے مختص ہے، اس میوزیم میں دواوں، جڑی بوٹیوں اور نباتات کے مختلف نمونے اور چینی، بھارتی، اور یونانی علاج معالجے میں استعمال کیے جانے والے روایتی آلات رکھے ہوئے ہیں، ان آلات اور دواوں میں قدیم اسلامی جڑی بوٹیاں اور دوائیاں بھی شامل ہیں۔

کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی عمارت کی نچلی منزل میں عمارت کا میں داخل ہونے کا مرکزی حصہ ہے، اسی حصے میں سیدھی جانب بیرونی آوٹ پیشنٹ کلینک، میڈیکل اسٹور اور بیماروں کی آرام گاہ ہے۔

جبکہ عمارت کی نچلی منزل کے بائیں جانب ایک عظیم الشان لائبریری ہے، جو 453.25 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، یہ لائبریری علم فقہ، علم طب، میڈیسن، دواوں کی تاریخ، طبی تحقیقات، روایتی قدیم طب اور حدیث نبوی کی کتابوں پر مشتمل ہے، ساتھ ہی اس لائبریری میں اخبارات، میگزنس اور مقامی، علاقائی وبین الاقوامی سطح کی طب کانفرنسوں کی جانب سے شائع شدہ مختلف کتابیں بھی موجود ہیں۔

اب ہم کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی دواسازی کی انڈسٹری میں ہیں، یہاں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قدرتی جڑی بوٹیوں اور چینی وقدیم یونانی طب کی مدد سے مختلف امراض کے علاج کے لیے دوائیاں تیار کی جاتی ہیں، یہ دوائیاں خالص قدرتی طبی نباتات سے تیار کی جاتی ہیں، جو کیمیائی اور نقصان دہ مواد سے مکمل طور پر پاک وصاف ہوتی ہیں، کویت اسلامک میڈیسن سینٹر میں دوائیوں کو تیار کرنے سے پہلے تمام جڑی بوٹیوں اور نباتات کو انتہائی گہری تحقیق کے لیے دیا جاتا ہے تاکہ مختلف امراض کے علاج کے لیے یہ دوائیاں امید افزا فائدہ دے سکیں۔

سینٹر کے دواسازی شعبے میں دوائیوں کو کیپسول، Tablets اور  سائل مواد کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے، اسی طرح مریض کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے بعض دوائیوں کو خوشبودار کریم اور ذائقہ دار تیل کی شکل میں بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں دواسازی کے لیے ایک خاص طریقہ کار اپنایا جاتا ہے، جس میں جدید ترین آلات سمیت قدیم آلات کا بھی سہارا لیا جاتا ہے، ان آلات میں پیسنے اور ملانے کے جدید آلات بھی شامل ہیں۔

کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے دواسازی شعبے کا دواسازی کا معیار بھی قابل تعریف ہے، یہاں ماہر وتجربہ کار فارمسٹ کی نگرانی اور دوائی سازی کے بین الاقوامی قوانین وجدید ترین تحقیقات کی روشنی میں دوائیاں تیار کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر حمد العباد میڈیسن سینٹر کے چیرمین ہیں، ان سے ہم نے سینٹر کی حالیہ سرگرمیوں اور کامیابیوں اور جڑی بوٹیوں کے سلسلے میں معلوم کیا، ان کا کہنا تھا کہ جڑی بوٹیاں قدرت کا بہت بڑا انعام اور بیش بہا دولت ہیں ۔انہیں انمول جواہرات بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ طب دور قدیم ہی سے علاج الامراض کے لئے جڑی بوٹیوں کے خواص و فوائد کی متلاشی رہی ہے ۔ ان پر تحقیقات کا کام روزاول سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہیگا ۔ انسانی ارتقاء کی تاریخ کی طرح جڑی بوٹیوں پر تحقیقات کی ارتقائی صورتوں کی تاریخ بھی بہت طویل اور تابناک ہے ۔ طب اسلامی یقینا نباتات پہ تحقیقات کا دلاویز مجموعہ اور عجوبہ ہے ۔

ڈاکٹر حمد العباد کے بقول جہاں تک کویت اسلامک میڈیسن کا تعلق ہے تو یہ سینٹر دنیا کا اپنی نوعیت کا واحد میڈیسن سینٹر ہے، اس سینٹر میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طب سے متعلق تعلیمات پر خاص توجہ دی جاتی ہے بلکہ آپ کی طبی تعلیمات کے فروغ کے لیے یہ سینٹر کوشاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سینٹر کا مقصد اسلامی طب کے ورثہ کو دوبارہ زندہ کرنا اور اکابرین فن کی تحقیقات کو آگے بڑھانا ہے، خصوصا ابن سینا، رازی اور ابن البیطار کی کوششوں کو منظر عام پرلانا سینٹر کے مقاصد میں شامل ہے۔

ڈاکٹر حمد العباد نے مزید بتایا کہ علم ادویہ کے سلسلہ میں مسلمان اطباء نے تحقیقاتی کارنامے انجام دیے ہیں، انہوں نے کافور، صندل، دارچینی اور قرنفل وغیرہ جڑی بوٹیوں کے خواص اور تاثیر معلوم کیے ، انہوں نے سب سے پہلے دواسازی کی دکانیں اور گشتی بیمار خانے قائم کئے، قید خانوں کا روزانہ طبی معائنہ کرنا اور طبی امتحانات منعقد کرنے کے طریقے سب سے پہلے عربوں نے ہی رائج کیے، چوں کہ مسلمان اعلیٰ درجہ کے ملاح تھے، اس لیے جہاز رانی کے ذریعہ انہیں مختلف ممالک میں پہنچ کر نئی نئی جڑی بوٹیوں کے دریافت کا موقع ملا، چناں چہ انہوں نے طبی دنیا کو ایسی جڑی بوٹیوں سے متعارف کرایا جن سے یونان کے اطباء ناواقف تھے، مسلمان اطباء نے طبی دنیا کو”الکحل“ سے روشناس کرایا، انہوں نے قدیم علم کیمیا کے نظریات پر تنقید کی، اس کے فرسودہ تصورات کو غلط قرار دیا اور جدید علم کیمیا کی بنیاد رکھی، جس کی ابتدا ابو اسحاق یعقوب الکندی نے کی اور جابر بن حیان نے علم کیمیا اور دواسازی کے فن کو بام عروج تک پہنچا دیا، اسی علم کیمیا کی مدد سے انہوں نے نئی نئی داوئیں تیار کیں اور نئے نئے مرکبات دریافت کئے، جابر نے داوٴوں کو قلمانے کا طریقہ ایجاد کیا اور بہت سی دواوٴوں کو قلما کر انہیں نہایت موٴثر اور مفید بنایا، انہوں نے بالوں کو کالا کرنے کے لیے خضاب تیار کیا، جو آج تک استعمال کیا جاتا ہے۔

کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے چیرمین ڈاکٹر حمد العباد سینٹر کے طریقہ کار سے متعلق کہتے ہیں : کہ سینٹر میں ادویہ کی تیاری سے پہلے جڑی بوٹیوں اور نباتات کو قدیم طب کی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے، جڑی بوٹیوں اور نباتات کا انتخاب اور پھر دواسازی کا عمل متعلقہ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کیا جاتا ہے، انھوں نے بتایا کہ طبی جڑی بوٹیوں کی 90 سے زیادہ اقسام ہیں، لیکن کویت اسلامک میڈیسن سینٹر/ زیادہ تر بھارت اور پاکستان کی جڑی بوٹیوں اور نباتات کو ترجیح دیتا ہے۔

کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے دواسازی شعبے میں تقریبا 40 قسم کی ادویہ تیار کی جاتی ہیں، یہ ساری ادویہ عالمی ادارہ صحت کے ضوابط وقواعد کے مطابق تیار کی جاتی ہیں اور ہر نئے پروڈوکٹ کو بھارت، مصرت اور دنیا کی مختلف یونیورسیٹیوں کے اساتذہ اور ماہرین کے پاس ٹیسٹ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ حال میں کویت اسلامک میڈیسن سینٹر میں مختلف 15 بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، جن میں جوڑوں کے امراض ، خون میں چربی کا اضافہ، پیشاب کی نالی میں انفکیشن، دل کے امراض، معدہ کے امراض، قولون کے امراض، آدھے سر کا درد، دمہ ، ناک کی الرجی، Diabetes اور موٹاپے کے امراض وغیرہ شامل ہیں۔