سرورق

Saturday, August 27, 2016


تحریر- مبصرالرحمن قاسمی (ایڈیٹر ریڈیو کویت)
 
طارق رجب میوزیم کویت
 
قارئین! آج ہم کویت کے ایک مشہور میوزیم  کی روداد لے کر حاضر خدمت ہیں۔

طارق رجب میوزیم کویت میں اسلامی خوش خطی کا ایک خوبصورت مرکز ہے، یہ میوزیم کویت کے جابریہ علاقے میں نیوانگلش اسکول کے روبرو واقع ہے، یہ میوزیم اور اسکول دونوں / خاندان رجب کی ملکیت ہے، معاشرہ کی تعمیر وترقی میں رجب خاندان کا اہم کردار ہے، ملک کے تعلیمی میدان کی ترقی میں اس خاندان نے جہاں اہم کردار ادا کیا وہیں قومی آرٹ، تہذیب اور ثقافت کے فروغ میں بھی اس خاندان نے اہم کردار نبھایا ہے۔

میوزیم میں داخل ہوتے ہی زائرین اور سیاحوں کے بیٹھنے کے لیے خوبصورت صوفے رکھے ہوئے ہیں، میوزیم کا صدر دروازہ میوزیم کی شان کو دوبالا کرتا ہے، اس دروازے کو بھارتی ماہرین نے بنایا تھا، جس پر خوشنما نقش کندہ ہیں، جو خالص ساگوان کی لکڑی سے تیار کردہ ہے، دروازے پر دلکش وخوبصورت تحریر میں مختلف دعائیں نقش ہیں، سیاح اور زائرین جب اس دروازے سے گذرتے ہیں تو دروازے پر کندہ ان دعاوں پر ان کی نظر ضرور پڑتی ہے۔  
 

طارق رجب میوزیم کے قیام کا مقصد عربی رسم الخط اور عربی کالیگرافی کو فروغ دینا ہے۔

 یقینا تخلیقی اظہار بنی نوع انسان کا ایک اہم وصف ہے۔ شاعری ہو یا موسیقی، سنگ تراشی ہو یا پینٹنگ، کوئی بھی شکل ہو، بہر حال وہ مناظر کو لافانی بنا دیتی ہے۔ پتھروں، مہروں، لکڑی یا دیواروں پر کی گئی دستی تحریر کے ذریعہ نقش نگاری اس بات کی شاہد ہے۔ خوش نویسی اور کالیگرافی بھی ایک ایسا ہی فن ہے جو دستی تحریر کے ذریعہ الفاظ و حروف کو زندہ جاوید بنا دیتا ہے۔ انگریزی اصطلاح کیلی گرافی Calligraphy یونانی الفاظ Kallos اور Graphos کا مجموعہ ہے۔ Kallos کا مطلب ہے حسین اور Graphos کے معنی لکھنے یا لکیر کھینچنے کے ہوتے ہیں۔ خوش نویس حضرات مقدس صحیفوں اور حکیمانہ اقوال کے اقتباسات، شاعرانہ مصرعوں اور قطعات وغیرہ کی حسین اندازمیں منبت کاری یا نقاشی کا کام انجام دیتے ہیں۔

عربوں ،چینیوں، جاپانیوں اور مصریوں نے خوش نویسی کو ایک آرٹ کی شکل میں ترقی دی۔ خطاطی کا منفرد فن جزیرہ نما عرب اور ایران میں پروان چڑھا۔ یہی خطاطی بھارتی خوش نویسی کا بھی اہم وسیلہ بن گی۔ جزیرہ نما عرب کے باسیوں نے قرآن مجید کی آیات کو ضبط تحریر میں لانے کے لیے سراسر اسی اندازمیں تحریر اور خطاطی رموز و اسرار یا پیچیدگیوں کا سہارا لیا اور اسی لیے اس کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فن اسلامی کلچر سے زیادہ وابستہ ہے۔ خوش نویسی کی اسی اہمیت کے پیش نظر طارق رجب میوزیم کا قیام عمل میں آیا، 14 مارچ 2007 کو برطانوی سفیر Stuart Laing  کے ہاتھوں میوزیم کا افتتاح ہوا، اس میوزیم کے روح رواں وبانی طارق سید رجب ہیں، طارق سید رجب / قومی محکمہ آثار قدیمہ کے سابق ڈائریکٹر ہیں، انھوں نے اپنے اس ذاتی میوزیم میں ساتویں صدی سے عصر حاضر تک قدیم وجدید عربی خطاطی وخوش نویسی کے بے شمار فن پارے جمع کیئے ہیں۔ ان فن پاروں سے عربوں کی عربی رسم الخط اور علم ومعرفت میں دلچسپی کا پتہ چلتا ہے، ابتدا سے ہی مختلف فنون لطیفہ سے عربوں کو ایک خاص لگاؤ رہا ہے بالخصوص خوش نویسی و خطاطی، ظروف سازی اور آئینہ گری وغیرہ میں انھوں نے مہارت تامہ حاصل کی تھی۔ فن خطاطی کا انحصار دراصل جومیٹریکل آرٹ پر ہے مثلا لکیریں، زاوئیے، مثلث، مربع اور دائرے وغیرہ۔ ماضی کے تقریبا ایک ہزار برسوں میں عربوں نے فن خطاطی میں نہ صرف مہارت حاصل کی ہے بلکہ متقدمین کی روش کے محدود دائرے سے نکل کر اس فن میں وسعت و ندرت بھی پیدا کی اور خالق کائنات کی عطا کی ہوئی مخصوص صلاحیت کے سبب اس اختراع و ایجاد میں اپنی ذہنی نظافت و جدت کا بے پناہ مظاہر کیا ہے۔

چونکہ بیشتر خطاط مسلمان تھے اور اسلام میں تصویر کشی کی ممانعت ہے اس لیے فنکاروں نے خطوط کے ذریعے اپنی طبع آزمائی کی اور طرح طرح کے خطوط ایجاد کیے نیز تصوری خطوط کے نام سے انسانوں، جانوروں، جہازوں اور محرابوں و میناروں کی شبیہ بنا کر اپنی صناعی کا مظاہر کیا ہے۔

فن خطاطی صرف مسلمانوں کی روحانی تسکین کا باعث نہیں بنا بلکہ ان کے جمالیاتی ذوق کا ایک ذریعہ بھی ثابت ہوا۔ شکل و صورت دینے کے لیے فن خطاطی میں ایسے بے شمار تجربات کیے گئے کہ آج یہ فن مسلمانوں کے جمالیاتی ذوق کی ترجمانی کر رہا ہے۔

مشرق وسطی سے باہر جہاں کہیں بھی مسلمان گئے ساتھ فن خطاطی بھی لے کر گئے اور اسے وہاں کے حالات اور ضروریات کے ساتھہ اس طرح ہم آہنگ کیا کہ نہ تو اس فن کے اسلامی تشخص کو کوئی زد پہنچی اور نہ مقامی ضروریات کو ہی قربان کرنا پڑا بلکہ دنیا کے رسم الخط میں صرف اسلامی فن خطاطی ہی ایسا فن ہے جسے جلیل القدر شہنشاہوں نے اپنی روحانی تسکین اور جمالیاتی ذوق کی خود آگاہی کے لیے سیکھا اور ان ہی بادشاہوں و شہنشاہوں نے ماہرین فن کی اپنے امراء و وزراء سے زیادہ قدر کی۔ دنیا کے کسی اور رسم الخط کو یہ مقام کبھی بھی حاصل نہیں ہوا۔ فن خطاطی کو اس مقام تک پہنچانے میں مسلمانوں کا خون جگر ہی نہیں بلکہ فن کتابت کا تقدس اور اس فن کے ساتھہ مسلمانوں کی عقیدت بھی شامل ہے۔

طارق رجب میوزیم میں ساتویں صدی سے عصر حاضر تک کے اسلامی خوش نویسی کے تمام علامتی خاکے موجود ہیں، یہاں مختلف دور کے خوش نویسوں کے نام اور ان کے چھوڑے ہوئے فن پاروں کے خوبصورت ومنفرد نمونے زائزین کو ششدر کردیتے ہیں۔

عربی رسم الخط دنیا کا سب سے قدیم ترین رسم الخط ہے، زمانہ جاہلیت سے عصر حاضر تک عربی رسم الخط مختلف زمانوں سے گذرا ہے، اور ہر زمانے میں اس کی ترقی ہوئی ہے، طارق رجب میوزیم کے فن پارے اس بات کے شاہد ہیں، خلاف بنی امیہ کے اواخر اور عہد عباسی کے آغاز میں عربی رسم الخط ایک مستقل فن کا درجہ حاصل کرچکاتھا، اس زمانے کے مشہور خطاط ابن مقلہ نے عربی رسم الخط کو بام عروج تک پہنچایا اور اسے نئے نئے راستوں پر چلایا یہی وجہ ہے کہ اسے عربی خطاطی کا انجینئر بھی کہا جاتا ہے، اس سے قبل خطاطی کے کوئی قواعد وضوابط نہیں تھے، ابن مقلہ نے عربی رسم الخط کے ضوابط بنائے، اس نے عربی کے مشہور وقدیم خط / خط کوفی سے مزید چھہ خطوط بنائے، جو خط ثلث، خط نسخ، خط توقیع، خط  رقاع، خط محقق اور خط ریحان سے معروف ہوئے، بنیاد طور پر عربی خوش نویسی میں ان ہی چھ خطوط نے کلاسیکی خطوط کا درجہ حاصل کیا۔ عہد عباسی کے بعد ترکی دور میں مصر، ایران، افریقا اور بر صغیر میں بھی عربی رسم الخط کی تیزی کے ساتھہ ترقی ہوئی۔ ان تمام زمانوں کے مختلف فن پارے طارق رجب میوزیم کی زینت ہیں۔

میوزیم میں 19 ویں صدی کے وسط کے ایران کے شاہی خطاط عثمان سلطان کے ہاتھوں سے لکھے ہوئے فن پاروں کا ایک پینل ہے، جن میں ان کے ہاتھوں سے تیار کردہ غلاف کعبہ بھی ہے، جس پر کالے ریشمی کپڑے پر سونے اور چاندی کے دھاگوں سے خوبصورت ودلکش خطاطی کرکے اس پر شاہی مہر ثبت کی گئی ہے۔

میوزیم میں اس کے بازو مسجد نبوی کی دیواروں پر استعمال کیا گیا سنہرے اور سفید رنگ کا غلاف رکھا ہوا ہے، اس کے بعد عہد اموی کے سکے رکھے گئے ہیں،یہ سکے جالی دیوانی خط کے خوبصورت نمونے ہیں۔ میوزیم کی نمائش میں غلاف کعبہ کے اوپری حصے کے نمونے بھی شامل ہیں جنھیں شہادہ کہا جاتا ہے، ان نمونوں میں قرآنی آیات کو خوبصورت خط میں سنہری ایمبرائڈری کی گئی ہے۔

میوزیم کی نمائش میں خط کوفی سے لے کر خط نستعلیق تک عربی خطوط کے مختلف نمونے رکھے گئے ہیں۔ یہ خط چمڑے، جھلی، کاغذ، غالیچوں، کپڑوں، پتھر، اور گلاس پر کندہ ہیں۔ اسی طرح اسلامی دنیا کے مختلف حصوں سے حاصل کیئے گئے الگ الگ خطوں میں لکھی گئی کتابوں کے قدیم ونادر نمونے بھی اس میوزیم کی زینت ہیں۔ میوزیم میں بغداد کے 13 ویں صدی کے مشہور زمانہ خطاط جمال الدین ابوالمجد یاقوت بن عبداللہ الرومی المستعصمی کے ہاتھوں سے لکھا ہوا قرآن کا نسخہ بھی موجود ہے۔ روایتی طور پر قرآن کو خط کوفی کے بعد خط نسخ میں ہی لکھا جاتا رہا لیکن ملمع سازی اور تزئین کاری کے مقابلوں نے مختلف ہم پیشہ لوگوں کو الگ الگ خط میں قرآن کریم کی کتابت پر آمادہ کیا۔

طارق رجب میوزیم میں لٹکی ہوئی تصاویر، پوسٹرس، دروازے اور دیگر چیزیں عربی خوش نویسی کا دنیا کے خوبصورت ونادر مجموعوں میں سے ایک ہے۔ یہاں چینی کالیگرافی کے بھی چند نادر نمونے رکھے ہوئے ہیں، اسی طرح میوزیم میں انڈونیشیائی طرز تحریر کا نادر قرآنی نسخہ بھی ہے، جو کھجور کے درخت کی لکڑی پر لکھا ہوا ہے۔ اسی طرح میوزیم میں مصر، ترکی اور ایران سے جمع شدہ نادر قرآنی نسخے رکھے ہوئے ہیں ، یہ نسخے خط محقق میں لکھے ہوئے ہیں۔

طارق رجب میوزیم کی سیر جاننے والوں اور نہ جاننے والوں دونوں کے لیے کارآمد ہے، کیونکہ اس میوزیم میں نہ صرف قدیم دور کے مختلف عربی رسم الخط کے نمونے رکھے ہوئے ہیں بلکہ دور حاضر کے معروف خوش نویسوں کے بھی خوبصورت فن پارے اس میوزیم کی زینت ہے۔ میوزیم میں زائرین کو عربی کالی گرافی سے متعلق معلوماتی فلم بھی دکھائی جاتی ہے، اس فلم میں ترکی کے مشہور خطاط حسن صلیبی کی خصوصیات پر خصوصی روشنی ڈالی گئی ہے۔ میوزیم میں ایک کمرہ پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے زرین اقوال اور آپ کی صفات وخوبیوں پر مشتمل کالی گرافی کے نمونوں کے لیے خاص ہے۔ میوزیم کی ایک نمائش گاہ بھی بہت اہم ہے، اس نمائش گاہ میں خانہ کعبہ کا وہ کسوہ یا غلاف رکھا ہوا ہے جو مصر کا تیار کردہ ہے، شاہ عبدالعزیز بن سعود کے دور تک ہر برس مصر میں ہی خانہ کعبہ کا غلاف تیار کیا جاتا تھا، لیکن شاہ عبدالعزیز بن سعود نے اس روایت کو بدل کر مکہ مکرمہ میں ہی غلاف کعبہ کی تیاری کے لیے ایک جگہ مخصوص کی۔ اس سے پہلے تک یہ روایت تھی کہ کسوہ کو مصر میں تیار کیا جاتا تھا اور ایک خاص محمل پر رکھ کر اونٹوں کے ذریعے پوری شان وشوکت اور عظیم جشن کے ساتھہ مکہ مکرمہ لایا جاتا تھا۔ اسی زمانے کا ایک کسوہ طارق رجب میوزیم کی زینت ہے۔

یہ میوزیم روزانہ صبح 9 بجے سے دوپہر 12 بجے تک اور شام 4 بجے سے 7 بجے تک کھلا رہتا ہے۔ اسلامی کالیگرافی میں دلچسپی رکھنے والوں اور ان لوگوں کے لیے جنھیں مذہب اسلام کی بہت کم معلومات ہیں طارق رجب میوزیم ایک انتہائی مفید اور کارآمد جگہ ہے، آپ بھی اس میوزیم کی ایک بار ضرور وزٹ کریں۔

 

از – مبصرالرحمن قاسمی  ( ایڈیٹر ریڈیو کویت)

العین کا اونٹ بازار

العین کا اونٹ بازار متحدہ عرب امارات کا مشہور بازار ہے، یہ بازار مقامی روایات کا امین ہے، زائرین اور سیاحوں کے ہجوم کی وجہ سے العین کو مقامی لوگ "سنہرا شہر" اور گولڈن سٹی بھی کہتے ہیں، یہ شہر عربی کلچر اور ثقافت کا غماز ہے، العین شہر دبئی اور ابوظہبی سے مساوی فاصلے پر واقع ہے۔ عمان کی سرحد سے بھی یہ شہر بہت قریب ہے۔

العین کے اونٹ بازار میں پہنچنا کچھ دشوار ہے، اس لیے کہ بازار میں جانے کے لیے شہر سے تقریبا نصف گھنٹہ درکار ہے، اس کے بعد کچھ دور تک سخت گرمی میں چل کر جانا ہوتا ہے، بازار میں اونٹوں کو بڑی بڑی ٹرکوں میں ڈال کر لایا جاتا ہے اور نیلامی کے لیے قطار در قطار کھڑا کیا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات کا اونٹوں کا یہ روایتی بازار خلیج عرب کا ایک منفرد بازار ہے، جہاں پورے خلیج کے تاجر پیشہ افراد اور عام افراد اونٹوں کی خریدوفروخت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ العین شہر میں یہ بازار گذشتہ کئی برسوں سے منعقد ہورہا ہے۔ العین کا یہ بازار ماضی کی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔

 

Al-Ahsa ki sair


از – مبصرالرحمن قاسمی  ( ایڈیٹر ریڈیو کویت)
الاحساء کی سیر
قارئین!  آج ہم سعودی عرب کے الاحساء نخلستان کی سیر کررہے ہیں، الاحساء نخلستان ایشیاء اور سعودی عرب کا سب سے بڑا نخلستان ہے، یہ نخلستان خلیج عرب کے مغرب میں 65 کلومیٹر پر واقع ہے، یہ نخلستان خلیج عرب سے داہوہ اور صحراء عمان سے ہوتے ہوئے قطر، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کی سرحدوں سے ملتا ہے۔
الاحساء کو دنیا کا سب سے بڑا نخلستان کہاجاتا ہے، سال 1913 میں الاحساء اور اس کے اطراف کا علاقہ موجودہ سعودی حدود میں شامل ہوا، یہ علاقہ ماضی قدیم سے مغرب اور مشرق کے درمیان تجارتی گذرگاہ کے طور پر معروف ہے۔ اور ہر زمانے میں اسے تجارتی منڈی کا درجہ حاصل رہا ہے، یہاں کے گھنے کھجور کے جنگلات کافی مشہور ہیں، الاحساء کے مرکزی حصے میں تقریبا 3 ملین کھجور کے درخت ہیں۔ گرما میں یہاں کا موسم بہت زیادہ گرم ہوتا ہے جبکہ ربیع اور سرما میں شدید سرد رہتا ہے۔الاحساء کو اس کے پانی کے چھوٹے چھوٹے تالابوں کی وجہ سے بھی خلیج عرب میں شہرت حاصل ہے، تالابوں کا یہ پانی علاقے میں زرعی تجارت کے فروغ میں اہم ثابت ہوتا ہے۔ پانی کی صحیح مقدار میں فراہمی کی وجہ سے الاحساء زراعت میں دیگر علاقوں کے مقابلے آگے ہے، یہاں مکئی، چاول، گندم، موسمبی، مالٹا اور دیگر پھلوں کی بڑی مقدار میں پیداوار ہوتی ہے۔ الاحساء کے ایک بڑے رقبے پر تیل کی مصنوعات کی کمپنیاں بھی قائم ہیں، اکثر کمپنیاں آرامکو کا حصہ ہیں۔
الاحساء دنیا کے بڑے نخلستانوں میں سے ایک ہے، جبکہ ایشیاء کا یہ سب سے بڑا نخلستان ہے، ایشیاء کے سات قدرتی عجائبات میں شمولیت کے لیے الاحساء بھی ایک مضبوط دعویدار ہے، الاحساء میں 60 سے زیادہ پانی کے چشمے ہیں جبکہ یہاں کی مختلف چٹانیں آب خیز ہیں۔ پانی کے یہ چشمے اور زیر زمین آب خیز چٹانیں تین ملین سے زیادہ کھجور کے درختوں اور یہاں کے لاکھوں باشندوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ یہ مقام سعودی عرب میں کھجوروں کے باغات اور سروسبز وشاداب علاقے سے مشہور ہے، الاحساء کے نخلستانی علاقے میں مختلف زرعی منصوبے جاری ہیں، پانی کی معقول فراہمی اور پانی کے تازہ چشموں کی وجہ سے یہاں کے باشندے مختلف پھلوں اور گندم، چاول وغیرہ کی زراعت کرتے ہیں۔ الجوہریہ، ام صباح، الخدود اور الحرہ/ الاحساء کی بہاروں کے نام ہیں،  الاحساء اپنے خوشگوار موسموں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
 
الاحساء دنیا کے بڑے نخلستانوں میں شمار ہوتا ہے جس کا رقبہ 10,000  hectares سے زیادہ ہے۔ جس میں 3ملین کھجور کے درخت ہیں۔
الاحساء نیشنل پارک نخلستان کے شمال مشرق میں واقع ہے، جو ہفوف سے تقریبا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، پارک کو L’ کی شکل میں دیزائن کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پارک کا مرکزی حصہ جنوب میں ریت کے ٹیلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ پارک کا دوسرا حصہ سبخۃ الاسفار علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔ ریت کے ٹیلوں کے سامنے ایک بڑا تالاب ہے، اس کے بعد بہت دور تک زرعی اور رہائشی علاقہ دکھائی دیتا ہے۔
الاحساء کا نخلستان علاقے کے تقریبا 20 گاووں کو ریتیلے طوفانوں سے براہ راست تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کے لیے تقریبا 180 hectares زمین میں ببول، Barbours اور  Kenaنامی درخت لگائے گئے ہیں۔
 
الاحساء آثار قدیمہ کے مقامات کا بھی ایک مشہور مسکن ہے، یہاں ماضی کی قدیم عمارتیں آج بھی موجود ہیں، قرامطہ کےدور کی جواثا رہائش گاہیں، حزم پیلس اور کئی قدیم قبریں الاحساء کی قدیم تاریخ کی گواہ ہیں۔ الاحساء کے آثار قدیمہ کے کئی کھنڈرات میں مٹی کے قدیم برتن پائے گئے ہیں۔ جن میں ہاتھہ سے بنائے گئے منقش برتن، بازنطینی عہد کے سکے، اور سبز وسرخ رنگ کے منقش گلاس شامل ہیں۔
 
الاحساء کو دست کاری کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے،  لیکن یہاں کی سب سے اہم صنعت کھجور کی کاشت ہے، اس کے بعد دھات اور ٹیکسٹائل صنعت مشہور ہے۔ دھات کی چیزوں میں  "دلال" dilal   الاحساء کا سب سے اہم پروڈکٹ ہے، دلال عربی کافی پوٹ کو کہا جاتا ہے۔ دلال میں عموما زرد رنگ کا تانبا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس پر مطلوبہ ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
ٹیکسٹائل الاحساء کی دوسری بڑی صنعت ہے، علاقے کی معیشت میں ٹیکسٹائل کی صنعت کا اہم کردار ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اونٹ کے بالوں اور اون سے عبائے تیار کیئے جاتے ہیں۔
اس صنعت کے علاوہ الاحساء کے بعض باشندے مٹی کے برتن بناتے ہیں، یہ کاریگر باسکیٹ بھی تیار کرتے ہیں، خاص طور پر کھجور پیکنگ کے لیے پاوچس بھی تیار کرتے ہیں۔
الاحساء کی تیسری بڑی صنعت چمڑے اور لکڑی کی اشیاء تیار کرنا ہے، اس صنعت کا مشاہدہ ہم الاحساء میں جگہ جگہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح الاحساء میں سونے اور چاندی کی بڑی بڑی دکانیں بھی ہیں جہاں ہمہ اقسام اور ڈیزائن کے زیورات تیار کیئے جاتے ہیں۔
الاحساء میں چند قابل دید مقامات بھی ہیں، جن میں مینارے اور قلعے شامل ہیں، الاحساء میں واقع قدیم قلعے دراصل مستطیل نما عمارتیں ہیں، ان عمارتوں میں وسط میں بڑا ہال، اور اطراف میں کمرے ہیں۔ ان میں مشہور ترین احمر ٹاور، عسکر پیلس، برزان پیلس، حزم پیلس، حزام پیلس، بصیرہ ٹاور، وضیحہ پیلس اور وجاج پیلس شامل ہیں۔
الاحساء کا "الاحساء میوزیم" بھی قابل دید ہے، یہ میوزیم قدیم آثار اور سعودی ورثہ سے مشہور ہے، میوزیم میں زمانی اعتبار سے علاقے کے ورثہ کو ڈسپلے میں رکھا گیا ہے۔ زائرین اس میوزیم کی سیر کے ذریعے نہ صرف علاقے کی تاریخ سے واقف ہوسکتے ہیں بلکہ یہاں کی روایات بھی دیکھہ سکتے ہیں۔
الاحساء نیشنل پارک العمران سٹی میں واقع ہے، جبل القرہ سے یہ پارک چار کلومیٹرکے فاصلے پر ہے، صبح طلوع شمس سے غروب شمس سے پارک کی سیر کرسکتے ہیں۔ پارک میں گارڈن، سوئمنگ پولس، چلڈرنس پلے گراونڈس اور فیمیلیز کے لیے بیٹھنے کی آرام دہ جگہیں ہیں۔
صحرائی ریت سے العمران سٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ پارک تعمیر کیا گیا ہے، جس میں مختلف درخت اگائے گئے ہیں، آج الاحساء کا یہ پارک جہاں العمران سٹی کو ریت کے طوفانوں سے محفوظ رکھتا ہے وہیں زائرین کی سیر وتفریح کا ایک ذریعہ بھی ہے۔