سرورق

Saturday, August 27, 2016

Al-Ahsa ki sair


از – مبصرالرحمن قاسمی  ( ایڈیٹر ریڈیو کویت)
الاحساء کی سیر
قارئین!  آج ہم سعودی عرب کے الاحساء نخلستان کی سیر کررہے ہیں، الاحساء نخلستان ایشیاء اور سعودی عرب کا سب سے بڑا نخلستان ہے، یہ نخلستان خلیج عرب کے مغرب میں 65 کلومیٹر پر واقع ہے، یہ نخلستان خلیج عرب سے داہوہ اور صحراء عمان سے ہوتے ہوئے قطر، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کی سرحدوں سے ملتا ہے۔
الاحساء کو دنیا کا سب سے بڑا نخلستان کہاجاتا ہے، سال 1913 میں الاحساء اور اس کے اطراف کا علاقہ موجودہ سعودی حدود میں شامل ہوا، یہ علاقہ ماضی قدیم سے مغرب اور مشرق کے درمیان تجارتی گذرگاہ کے طور پر معروف ہے۔ اور ہر زمانے میں اسے تجارتی منڈی کا درجہ حاصل رہا ہے، یہاں کے گھنے کھجور کے جنگلات کافی مشہور ہیں، الاحساء کے مرکزی حصے میں تقریبا 3 ملین کھجور کے درخت ہیں۔ گرما میں یہاں کا موسم بہت زیادہ گرم ہوتا ہے جبکہ ربیع اور سرما میں شدید سرد رہتا ہے۔الاحساء کو اس کے پانی کے چھوٹے چھوٹے تالابوں کی وجہ سے بھی خلیج عرب میں شہرت حاصل ہے، تالابوں کا یہ پانی علاقے میں زرعی تجارت کے فروغ میں اہم ثابت ہوتا ہے۔ پانی کی صحیح مقدار میں فراہمی کی وجہ سے الاحساء زراعت میں دیگر علاقوں کے مقابلے آگے ہے، یہاں مکئی، چاول، گندم، موسمبی، مالٹا اور دیگر پھلوں کی بڑی مقدار میں پیداوار ہوتی ہے۔ الاحساء کے ایک بڑے رقبے پر تیل کی مصنوعات کی کمپنیاں بھی قائم ہیں، اکثر کمپنیاں آرامکو کا حصہ ہیں۔
الاحساء دنیا کے بڑے نخلستانوں میں سے ایک ہے، جبکہ ایشیاء کا یہ سب سے بڑا نخلستان ہے، ایشیاء کے سات قدرتی عجائبات میں شمولیت کے لیے الاحساء بھی ایک مضبوط دعویدار ہے، الاحساء میں 60 سے زیادہ پانی کے چشمے ہیں جبکہ یہاں کی مختلف چٹانیں آب خیز ہیں۔ پانی کے یہ چشمے اور زیر زمین آب خیز چٹانیں تین ملین سے زیادہ کھجور کے درختوں اور یہاں کے لاکھوں باشندوں کو پانی فراہم کرتے ہیں۔ یہ مقام سعودی عرب میں کھجوروں کے باغات اور سروسبز وشاداب علاقے سے مشہور ہے، الاحساء کے نخلستانی علاقے میں مختلف زرعی منصوبے جاری ہیں، پانی کی معقول فراہمی اور پانی کے تازہ چشموں کی وجہ سے یہاں کے باشندے مختلف پھلوں اور گندم، چاول وغیرہ کی زراعت کرتے ہیں۔ الجوہریہ، ام صباح، الخدود اور الحرہ/ الاحساء کی بہاروں کے نام ہیں،  الاحساء اپنے خوشگوار موسموں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔
 
الاحساء دنیا کے بڑے نخلستانوں میں شمار ہوتا ہے جس کا رقبہ 10,000  hectares سے زیادہ ہے۔ جس میں 3ملین کھجور کے درخت ہیں۔
الاحساء نیشنل پارک نخلستان کے شمال مشرق میں واقع ہے، جو ہفوف سے تقریبا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، پارک کو L’ کی شکل میں دیزائن کیا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے پارک کا مرکزی حصہ جنوب میں ریت کے ٹیلوں تک پھیلا ہوا ہے۔ پارک کا دوسرا حصہ سبخۃ الاسفار علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔ ریت کے ٹیلوں کے سامنے ایک بڑا تالاب ہے، اس کے بعد بہت دور تک زرعی اور رہائشی علاقہ دکھائی دیتا ہے۔
الاحساء کا نخلستان علاقے کے تقریبا 20 گاووں کو ریتیلے طوفانوں سے براہ راست تحفظ فراہم کرتا ہے، اس کے لیے تقریبا 180 hectares زمین میں ببول، Barbours اور  Kenaنامی درخت لگائے گئے ہیں۔
 
الاحساء آثار قدیمہ کے مقامات کا بھی ایک مشہور مسکن ہے، یہاں ماضی کی قدیم عمارتیں آج بھی موجود ہیں، قرامطہ کےدور کی جواثا رہائش گاہیں، حزم پیلس اور کئی قدیم قبریں الاحساء کی قدیم تاریخ کی گواہ ہیں۔ الاحساء کے آثار قدیمہ کے کئی کھنڈرات میں مٹی کے قدیم برتن پائے گئے ہیں۔ جن میں ہاتھہ سے بنائے گئے منقش برتن، بازنطینی عہد کے سکے، اور سبز وسرخ رنگ کے منقش گلاس شامل ہیں۔
 
الاحساء کو دست کاری کی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے،  لیکن یہاں کی سب سے اہم صنعت کھجور کی کاشت ہے، اس کے بعد دھات اور ٹیکسٹائل صنعت مشہور ہے۔ دھات کی چیزوں میں  "دلال" dilal   الاحساء کا سب سے اہم پروڈکٹ ہے، دلال عربی کافی پوٹ کو کہا جاتا ہے۔ دلال میں عموما زرد رنگ کا تانبا استعمال کیا جاتا ہے، اور اس پر مطلوبہ ڈیزائن کیا جاتا ہے۔
ٹیکسٹائل الاحساء کی دوسری بڑی صنعت ہے، علاقے کی معیشت میں ٹیکسٹائل کی صنعت کا اہم کردار ہے، ٹیکسٹائل انڈسٹری میں اونٹ کے بالوں اور اون سے عبائے تیار کیئے جاتے ہیں۔
اس صنعت کے علاوہ الاحساء کے بعض باشندے مٹی کے برتن بناتے ہیں، یہ کاریگر باسکیٹ بھی تیار کرتے ہیں، خاص طور پر کھجور پیکنگ کے لیے پاوچس بھی تیار کرتے ہیں۔
الاحساء کی تیسری بڑی صنعت چمڑے اور لکڑی کی اشیاء تیار کرنا ہے، اس صنعت کا مشاہدہ ہم الاحساء میں جگہ جگہ کرسکتے ہیں۔ اسی طرح الاحساء میں سونے اور چاندی کی بڑی بڑی دکانیں بھی ہیں جہاں ہمہ اقسام اور ڈیزائن کے زیورات تیار کیئے جاتے ہیں۔
الاحساء میں چند قابل دید مقامات بھی ہیں، جن میں مینارے اور قلعے شامل ہیں، الاحساء میں واقع قدیم قلعے دراصل مستطیل نما عمارتیں ہیں، ان عمارتوں میں وسط میں بڑا ہال، اور اطراف میں کمرے ہیں۔ ان میں مشہور ترین احمر ٹاور، عسکر پیلس، برزان پیلس، حزم پیلس، حزام پیلس، بصیرہ ٹاور، وضیحہ پیلس اور وجاج پیلس شامل ہیں۔
الاحساء کا "الاحساء میوزیم" بھی قابل دید ہے، یہ میوزیم قدیم آثار اور سعودی ورثہ سے مشہور ہے، میوزیم میں زمانی اعتبار سے علاقے کے ورثہ کو ڈسپلے میں رکھا گیا ہے۔ زائرین اس میوزیم کی سیر کے ذریعے نہ صرف علاقے کی تاریخ سے واقف ہوسکتے ہیں بلکہ یہاں کی روایات بھی دیکھہ سکتے ہیں۔
الاحساء نیشنل پارک العمران سٹی میں واقع ہے، جبل القرہ سے یہ پارک چار کلومیٹرکے فاصلے پر ہے، صبح طلوع شمس سے غروب شمس سے پارک کی سیر کرسکتے ہیں۔ پارک میں گارڈن، سوئمنگ پولس، چلڈرنس پلے گراونڈس اور فیمیلیز کے لیے بیٹھنے کی آرام دہ جگہیں ہیں۔
صحرائی ریت سے العمران سٹی کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ پارک تعمیر کیا گیا ہے، جس میں مختلف درخت اگائے گئے ہیں، آج الاحساء کا یہ پارک جہاں العمران سٹی کو ریت کے طوفانوں سے محفوظ رکھتا ہے وہیں زائرین کی سیر وتفریح کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
 

No comments:

Post a Comment