ڈاکٹر مبصرالرحمن
خالد النفیسی: کویتی
فن کا جری، سنجیدہ اور ہمہ جہت چہرہ
کویت کی فنی تاریخ میں چند نام ایسے ہیں جو محض اداکار نہیں
بلکہ ایک پورے عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ خالد النفیسی بھی انہی بڑے ناموں میں
شمار ہوتے ہیں۔ آج ان کی وفات کو بیس برس گزر چکے ہیں، مگر ان کا فن، اسلوب، جرأتِ
اظہار اور معاشرتی شعور آج بھی کویتی، خلیجی اور عربی فنی روایت میں پوری آب و تاب
کے ساتھ زندہ ہے۔ انہیں بجا طور پر کویتی فن کے بڑے ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے،
کیونکہ انہوں نے چار دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط اپنے فنی سفر میں تھیٹر، ٹیلی
ویژن اور سینما تینوں میدانوں میں گہرا اور دیرپا نقش چھوڑا۔
خالد النفیسی کی شخصیت کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ محض
تفریح فراہم کرنے والے فنکار نہیں تھے، بلکہ اپنے معاشرے کے نباض، اپنے عہد کے
نقاد اور عوامی احساسات کے ترجمان بھی تھے۔ وہ شروع ہی سے اپنے تیز مزاج، بے باک موقف
اور اس فکر کے لیے معروف رہے کہ فن پر کسی قسم کی غیر ضروری پابندی عائد نہیں ہونی
چاہیے۔ انہوں نے کویتی اور خلیجی معاشرے کے سیاسی، سماجی اور فکری مسائل کو نہایت
جرات کے ساتھ پیش کیا، مگر ان کی یہ جرات کبھی سطحیت میں نہیں ڈھلی۔ ان کی گفتگو
اور اداکاری میں احترامِ عقل، شائستہ مزاح اور کویتی روزمرہ کی خوشبو موجود رہتی
تھی، یہی وجہ ہے کہ وہ صرف کویت ہی نہیں بلکہ پورے عرب خطے میں پسند کیے گئے۔
1937 میں کویت میں پیدا ہونے والے خالد النفیسی نے ایسے ماحول میں
فن سے رشتہ جوڑا جب معاشرہ فن کے بارے میں مکمل کھلے ذہن کا حامل نہیں تھا۔ اس کے
باوجود ان کے شوق، فطری رجحان اور اندرونی لگن نے انہیں ابتدا ہی سے نمایاں کر دیا۔
ان کے فنی سفر کی پہلی جھلک اسکولی اسٹیج پر نظر آئی، پھر انہوں نے 1956 میں کویتی
ہدایت کار محمد النشمی کے ساتھ “ضاع الأمل” کے ذریعے عوامی سطح پر اپنی موجودگی
منوائی۔ بعد میں مصری ہدایت کار زکی طلیمات کی سرپرستی اور رہنمائی نے ان کی صلاحیتوں
کو مزید نکھارا اور اس طرح وہ اپنے عہد کے ان اداکاروں میں شامل ہوگئے جو سادہ اور
پیچیدہ، مزاحیہ اور المیہ، ہر طرح کے کرداروں کو موثر انداز میں نبھانے کی قدرت
رکھتے تھے۔
تھیٹر خالد النفیسی کی اصل شناخت تھا۔ وہ اسٹیج کو محض تفریح
کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی مکالمے اور فکری بیداری کا پلیٹ فارم سمجھتے تھے۔ اسی لیے
ان کی بہت سی پیشکشیں سماجی معنویت رکھتی تھیں، جیسے “بیت بوصالح”، “الکویت سنة
2000” اور “حرم سعادة الوزير”۔ دوسری طرف انہوں نے ایسے ڈراموں میں بھی نمایاں
کردار ادا کیا جو سیاسی فکر، قانون، صحافت، انتخابی عمل اور نظریاتی کشمکش جیسے
موضوعات سے بحث کرتے تھے۔ “حامي الديار”، “ممثل الشعب” اور “دقت الساعة” جیسی پیشکشیں
اس بات کا ثبوت ہیں کہ خالد النفیسی کا تھیٹر اپنے زمانے کے حساس سوالات سے پوری
طرح وابستہ تھا۔
ان کے فن کی ایک بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہ آنے والے خطرات کو
بہت پہلے محسوس کر لیتے تھے۔ “دقت الساعة” جیسی پیشکش میں انہوں نے انتہا پسند نظریات
کے اس اثر کو موضوع بنایا جو مستقبل کی نسلوں کے ذہن و فکر کو متاثر کر سکتا تھا۔ یہی
بے باکی بعض حلقوں کو ناگوار بھی گزری اور ایک مرحلے پر ان کے بعض کاموں کو روکنے
کی کوشش کی گئی۔ اس صورتِ حال نے انہیں دل برداشتہ کیا، یہاں تک کہ وہ کچھ عرصے کے
لیے کویت سے دور بھی رہے۔ مگر اس تمام کشمکش کے باوجود ان کے دل میں اپنے وطن اور
اپنے فن کے لیے محبت کم نہ ہوئی۔ ان کا موقف واضح تھا کہ معاشرے کے مسائل، سیاسی
کمزوریوں اور سماجی عیوب پر گفتگو خوف کا نہیں بلکہ اصلاح کا موضوع ہونی چاہیے۔
خالد النفیسی نے اسٹیج پر اپنی غیر معمولی موجودگی کے باعث
متعدد اعزازات بھی حاصل کیے۔ انہیں 1977 میں “فنان المسرح الأول” کے اعزاز سے
نوازا گیا، “حرم سعادة الوزير” میں کردار پر طلائی انعام ملا اور 1980 میں عالمی یومِ
تھیٹر کے موقع پر بھی انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ یہ اعزازات صرف ان کی مقبولیت
کے نہیں بلکہ اس فنی وقار کے اعتراف تھے جو انہوں نے اپنے فن، کرداروں کے انتخاب
اور اظہار کے معیار سے حاصل کیا تھا۔
ٹیلی ویژن کے پھیلاؤ کے بعد بھی خالد النفیسی نے اپنی فنی
قوت کا لوہا منوایا۔ ان کا نام آتے ہی “درب الزلق” ذہن میں آتا ہے، جو کویت اور خلیجی
معاشرے کے سماجی، معاشی اور تہذیبی تبدیلیوں کی ایک یادگار دستاویز بن چکا ہے۔ اس
ڈرامے میں تیل کے ظہور کے بعد پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو جس فنی سلیقے اور شائستہ
مزاح کے ساتھ پیش کیا گیا، اس نے خالد النفیسی اور ان کے ساتھی فنکاروں کو عوامی
حافظے میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ڈراما آج بھی دیکھنے والوں
کے لیے کشش رکھتا ہے۔
اسی طرح “إلى أبي وأمي مع التحية” جیسے تربیتی اور خاندانی
شعور سے بھرپور سلسلے میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض شہرت کے طالب
فنکار نہیں تھے، بلکہ ایسے موضوعات کو ترجیح دیتے تھے جو خاندان، تربیت اور سماجی
تعمیر سے متعلق ہوں۔ اس ڈرامے نے گھریلو زندگی، والدین کے کردار اور تربیتی اقدار
کو جس انداز میں پیش کیا، وہ اسے ایک مثالی اور رہنما کام بناتا ہے۔ خالد النفیسی
کی سنجیدہ فنی وابستگی نے ایسے منصوبوں کو خاص وزن عطا کیا۔
زندگی کے آخری دور میں بھی ان کا رشتہ سماج اور اس کے مسائل
سے منقطع نہیں ہوا۔ “عديل الروح” میں انہوں نے ایک وزیر کی شخصیت ادا کی، جس میں
خانگی زندگی اور سرکاری ذمہ داریوں کے درمیان کشمکش کو نمایاں کیا گیا۔ اس کردار
نے ان کی پختہ اداکاری اور فنی تجربے کو نئی سطح پر آشکار کیا، یہاں تک کہ صحافت
نے انہیں “الوزير العاشق” کا لقب دیا۔ اسی طرح “فريج صويلح” میں ان کی شرکت نے اس
فکر کو مضبوط کیا کہ تیز رفتار معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ معاشرتی اقدار اور سماجی
توازن کو برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔
تھیٹر اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ خالد النفیسی نے خلیجی سینما
کے ابتدائی سفر میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے 1965 میں پہلی کویتی ناطق فلم “العاصفة”
میں اداکاری کی، پھر پہلی کویتی رنگین فلم “الصمت” میں بھی شریک ہوئے۔ یہ دونوں
تجربات اس اعتبار سے اہم تھے کہ خلیجی سینما اس وقت ابھی اپنے ابتدائی مرحلے میں
تھا، اور ایسے وقت میں خالد النفیسی جیسے فنکاروں کی شرکت نے اس شعبے کو سنجیدگی،
اعتبار اور حوصلہ فراہم کیا۔ یوں انہوں نے نہ صرف اسٹیج اور اسکرین پر یادگار نقوش
چھوڑے بلکہ خلیجی سینما کی بنیاد رکھنے والوں میں بھی اپنا نام درج کرایا۔
خالد النفیسی کی اصل عظمت یہ ہے کہ وہ اپنے فن کے ذریعے
عوام کی زبان بن گئے تھے۔ ان کے اندر ایک حساس دل، ایک باریک بیں نظر اور ایک
شائستہ اور تیکھا طنز موجود تھا۔ وہ اپنے کرداروں کے ذریعے لوگوں کے دکھ، سوال،
الجھنیں اور امیدیں بیان کرتے تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے مداحوں نے انہیں زندگی
میں بھی سراہا اور ان کے انتقال کے بعد بھی ان کی یاد کو زندہ رکھا۔

No comments:
Post a Comment