تحریر:
مبصرالرحمن قاسمی
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر
آج ہم کویت کی سرزمین پر واقع اسلامی طب کاعظیم الشان
مرکز کویت اسلامک میڈیسن سینٹرمیں ہیں۔
طب اور علاج ومعالجہ کو دین اسلام
میں بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے، اسلام میں طب کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا یا
جاسکتا ہے کہ اسلامی نظام حکومت کے ابتدائی عہد میں، جب کہ اسلامی حکومت کا کوئی
محکمہ اور دفتر نہیں تھا، مسجد نبوی کے صحن میں ایک شفا خانہ موجود تھا اور ایک
انصاری خاتون حضرت رفیدہ اس شفاخانہ کی نگراں تھیں، جو بلا عوض خدمت کیا کرتی تھیں،
غزوہٴ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ زخمی ہوئے تو آپ نے فرمایا، اس کو رفیدہ
کے خیمہ میں پہنچا دو، حضرت رفیدہ کے تذکرہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ عہدِ نبوی
میں عورتیں بھی فن طب میں خاص مہارت رکھتی تھیں۔ ذہبی کی تاریخ الاسلام میں حضرت
عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ ”میں نے حضرت عائشہ سے بڑا طب میں کوئی عالم نہیں
دیکھا“مختلف کتب حدیث میں ہے کہ حضرات صحابیات جنگوں میں زخمیوں کی مرہم پٹی کیا
کرتی تھیں۔
مسلمانوں نے علم طب کو اسی طرح ترقی اور عروج بخشا ہے جس طرح انہوں نے دیگر
علوم کو بام عروج تک پہنچایا ہے،آپ صلی الله علیہ وسلم کے زمانے میں بڑے بڑے طبیب
موجود تھے، جو لوگوں کو طب کی تعلیم دیتے تھے،حارث بن کلدہ ثقفی عرب کے بڑے طبیبوں
میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے فارس کے علاقے جندی شاپور میں طب کی تعلیم حاصل کی
تھی،کئی صحابہ کو آپ نے حارث بن کلدہ سے علاج ومعالجہ کا مشورہ دیا تھا،انہوں نے
آپ کے دست حق پر اسلام قبول کرلیا تھا، ضماد بن ثعلبہ الازدی مشہور صحابی ہیں، آپ
صلی الله علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد اپنے معالج ہونے کا تذکرہ بھی کیا
تھا، خود آپ صلی الله علیہ وسلم روحانی طبیب ہونے کے ساتھہ جسمانی طبیب بھی تھے،آپ
صلی الله علیہ وسلم کے طبی ارشادات بڑی اہمیت کے حامل ہیں،آپ صلی الله علیہ وسلم
سے نظری اور عملی دونوں طرح کے علاج مروی ہیں، احادیث اور سیرت کی کتابوں میں
باقاعدہ ”کتاب الطب“ موجود ہے، طب نبوی کے موضوع پر بہت سی کتابیں لکھی گئیں، جس
میں مفردات اور مرکبات سے علاج کی تفصیل موجود ہے، علامہ ابن القیم کی ”الطب
النبوی“ اورجلال الدین سیوطی کی”الطب النبوی للسیوطی“ اس سلسلے میں بصیرت افروز ہے۔
طب سے مسلمانوں کی گہری وابستگی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ
اموی دور کے آغاز ہی میں جب ترجمہ نگاری کا رواج ہوا اور مختلف علوم وفنون کی کتابیں
یونانی،عبرانی،سریانی، سنسکرت زبانوں سے عربی قالب میں ڈھالی گئیں تو طب اور فلسفہ
کی سب سے زیادہ کتابیں ترجمہ کرائی گئیں، عباسی دور بالخصوص مامون کے عہد میں بے
شمار یونانی کتابوں نے عربی کا لباس زیب تن کیا، اس طرح مسلمانوں کی طب سے دلچسپی
بڑھنے لگی، آج جویونانی اطباء کی کتابوں میں ان کے اقوال اور ان کے تجربات موجود
ہیں وہ سب مسلمانوں کے رہین منت ہیں کہ مسلمانوں نے اس کو عربی جامہ پہنا کر اور
اس میں اضافہ وترمیم کر کے اسے زندہ جاوید بنادیا، ورنہ حکمائے یونان کے فلسفے اور
طبی کارنامے دفتر گم گشتہ ہوچکے ہوتے،عہد امویہ اور عباسیہ میں بالخصوص بقراط اور
جالینوس جیسے یونانی اطباء کی بہت سی کتابوں کے ترجمے ہوئے۔ کویت میں اسلامی طب کی
اسی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک عظیم الشان اسلامک طب سینٹر کا قیام عمل میں
آیا، جس کا مقصد اکابرین فن کی تحقیقات اور کارناموں سے دنیا کے انسانوں کو فائدہ
پہنچانا ہے۔
کویت کا "اسلامی طب مرکز" کویت سٹی کے الصباح الطبیہ علاقے میں
کویتی تہذیب کا ایک روشن مینار ہے۔ 21/ فروری 1987 کو مرحوم امیر شیخ جابر الاحمد
الصباح کی موجودگی میں ۲۶ ویں قومی دن کے موقع پر اسلامی طب مرکز کا افتتاح عمل
میں آیا۔ اسلامی طب مرکز کے افتتاح کی اس تقریب میں مرحوم امیر شیخ سعد العبداللہ
رحمہ اللہ اور حالیہ امیر شیخ صباح الاحمد الجابر الصباح موجود تھے۔
اس عظیم الشان اسلامی طب مرکز کی تعمیر فرزندان کویت خالد یوسف المرزوق اور
ان کی اہلیہ لولوہ النصار کے عطیے سے ہوئی،جنھوں نے سینٹر کی تعمیر اور اس سینٹر
کی ضروریات کے لیے 7.7 لاکھ
دینار کا عطیہ دیا تھا۔
لیکن بدقسمتی سے اس خوبصورت اور عظیم الشان مرکز کو
عراقی قبضے کے دوران زبردست نقصان ہوا، لہذا ملک کی آزادی کے بعد اسلامی طب سینٹر
کی ترمیم پر ایک لاکھہ دینار سے زیادہ کا خرچ آیا تھا۔
آج اسلامی طب سینٹر دنیا بھر میں علم ومعرفت اور ورثہ
کا اسلامی رنگ میں رنگا ایک عظیم الشان طبی قلعہ تصور کیا جاتا ہے، جو کویت کے
مرتبہ ومقام ، اس کے تہذیبی کردار اور فرزندان کویت کے عطا ووفا کا آئینہ دار ہے۔
طب سینٹر کے مرکزی دروازوں پر قرآن مجید کی آیتیں
کندہ ہیں، ان دروازوں پر پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیاری بات
بھی نقش ہے : ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہو جاتی ہے تو
بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سے اچھا ہوجاتا ہے۔
اسلامی طب مرکز/ اسی حدیث کی بنیاد پر جڑی بوٹیوں اور
نباتات کے ذریعے علاج ومعالجہ کرتا ہے۔
اسلامی طب مرکز کی عمارت ۶/ ہزار ایک سو میٹر مربع
جگہ پر واقع ہے، جس کی تعمیر میں چار سال کا عرصہ لگا۔ یہ سینٹر نہ صرف انسان کا
جسمانی علاج کرتا ہے بلکہ سماجی، روحانی اور فکری علاج بھی کرتا ہے، ساتھ ہی یہ
سینٹر دنیا بھر میں طبی انقلاب کی بنیادوں کو رکھنے میں مسلمان اطباء کی خدمات کو
منظر عام پر لانے کے مقصد سے قائم کی گئی اسلامی تنظیم کا مستقل دفتر بھی ہے ۔
اسلامی طب مرکز چار اہم سیکشن پر مشتمل ہے۔
جن میں طب سیکشن، ادویہ کی تحقیق سے متعلق سیکشن، دواسازی سیکشن اور مسجد۔
اسلامی طب سینٹر کی مسجد دیدنی ہے، اس مسجد کا چمکتا
ہوا سنگ مرمر کا مینار اور سنہرے رنگ کا گنبد اسلامی فن تعمیر کی خوبصورتی کو بیان
کرتے ہیں۔ تین منزلہ یہ مسجد دو ہزار چھ سو مربع میٹر زمین پر واقع ہے، جس میں وقت
واحد میں ۱۵سو نمازیوں کے لیے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی عمارت دو منزلہ ہے، بالائی
منزل پر کانفرنس ہال ہے، یہ ہال ۲۱۴۳ میٹر مربع رقبے پر مشتمل ہے جس میں تقریبا ۴۰۰
نشستوں کی گنجائش ہے، یہ کانفرنس ہال تمام جدید سمعی وبصری ذرائع سے آراستہ ہے،
ساتھ ہی اس ہال سے لگ کر لیباریٹریز، انتظامی دفاتر اور ایک میوزیم ہے۔ پہلی منزل
کے درمیانی حصے کے ایک ہال میوزیم کے لیے مختص ہے، اس میوزیم میں دواوں، جڑی
بوٹیوں اور نباتات کے مختلف نمونے اور چینی، بھارتی، اور یونانی علاج معالجے میں
استعمال کیے جانے والے روایتی آلات رکھے ہوئے ہیں، ان آلات اور دواوں میں قدیم
اسلامی جڑی بوٹیاں اور دوائیاں بھی شامل ہیں۔
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی عمارت کی نچلی منزل میں
عمارت کا میں داخل ہونے کا مرکزی حصہ ہے، اسی حصے میں سیدھی جانب بیرونی آوٹ پیشنٹ
کلینک، میڈیکل اسٹور اور بیماروں کی آرام گاہ ہے۔
جبکہ عمارت کی نچلی منزل کے بائیں جانب ایک عظیم
الشان لائبریری ہے، جو 453.25 مربع میٹر رقبے پر مشتمل ہے، یہ لائبریری علم فقہ، علم طب،
میڈیسن، دواوں کی تاریخ، طبی تحقیقات، روایتی قدیم طب اور حدیث نبوی کی کتابوں پر
مشتمل ہے، ساتھ ہی اس لائبریری میں اخبارات، میگزنس اور مقامی، علاقائی وبین
الاقوامی سطح کی طب کانفرنسوں کی جانب سے شائع شدہ مختلف کتابیں بھی موجود ہیں۔
اب ہم کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کی دواسازی کی
انڈسٹری میں ہیں، یہاں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قدرتی جڑی
بوٹیوں اور چینی وقدیم یونانی طب کی مدد سے مختلف امراض کے علاج کے لیے دوائیاں
تیار کی جاتی ہیں، یہ دوائیاں خالص قدرتی طبی نباتات سے تیار کی جاتی ہیں، جو
کیمیائی اور نقصان دہ مواد سے مکمل طور پر پاک وصاف ہوتی ہیں، کویت اسلامک میڈیسن
سینٹر میں دوائیوں کو تیار کرنے سے پہلے تمام جڑی بوٹیوں اور نباتات کو انتہائی
گہری تحقیق کے لیے دیا جاتا ہے تاکہ مختلف امراض کے علاج کے لیے یہ دوائیاں امید
افزا فائدہ دے سکیں۔
سینٹر کے دواسازی شعبے میں دوائیوں کو کیپسول، Tablets اور سائل مواد کی شکل میں تیار کیا جاتا ہے، اسی
طرح مریض کی سہولت کا خیال رکھتے ہوئے بعض دوائیوں کو خوشبودار کریم اور ذائقہ دار
تیل کی شکل میں بھی تیار کیا جاتا ہے۔ یہاں دواسازی کے لیے ایک خاص طریقہ کار
اپنایا جاتا ہے، جس میں جدید ترین آلات سمیت قدیم آلات کا بھی سہارا لیا جاتا ہے،
ان آلات میں پیسنے اور ملانے کے جدید آلات بھی شامل ہیں۔
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے دواسازی شعبے کا دواسازی
کا معیار بھی قابل تعریف ہے، یہاں ماہر وتجربہ کار فارمسٹ کی نگرانی اور دوائی
سازی کے بین الاقوامی قوانین وجدید ترین تحقیقات کی روشنی میں دوائیاں تیار کی
جاتی ہیں۔
ڈاکٹر حمد العباد میڈیسن سینٹر کے چیرمین ہیں، ان سے
ہم نے سینٹر کی حالیہ سرگرمیوں اور کامیابیوں اور جڑی بوٹیوں کے سلسلے میں معلوم
کیا، ان کا کہنا تھا کہ جڑی بوٹیاں قدرت کا بہت بڑا انعام اور بیش بہا دولت ہیں
۔انہیں انمول جواہرات بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ طب دور قدیم ہی سے علاج
الامراض کے لئے جڑی بوٹیوں کے خواص و فوائد کی متلاشی رہی ہے ۔ ان پر تحقیقات کا
کام روزاول سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہیگا ۔ انسانی ارتقاء کی تاریخ کی طرح جڑی
بوٹیوں پر تحقیقات کی ارتقائی صورتوں کی تاریخ بھی بہت طویل اور تابناک ہے ۔ طب
اسلامی یقینا نباتات پہ تحقیقات کا دلاویز مجموعہ اور عجوبہ ہے ۔
ڈاکٹر حمد العباد کے بقول جہاں تک کویت اسلامک میڈیسن
کا تعلق ہے تو یہ سینٹر دنیا کا اپنی نوعیت کا واحد میڈیسن سینٹر ہے، اس سینٹر میں
پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طب سے متعلق تعلیمات پر خاص توجہ دی جاتی ہے بلکہ
آپ کی طبی تعلیمات کے فروغ کے لیے یہ سینٹر کوشاں ہے۔ انھوں نے کہا کہ سینٹر کا
مقصد اسلامی طب کے ورثہ کو دوبارہ زندہ کرنا اور اکابرین فن کی تحقیقات کو آگے
بڑھانا ہے، خصوصا ابن سینا، رازی اور ابن البیطار کی کوششوں کو منظر عام پرلانا
سینٹر کے مقاصد میں شامل ہے۔
ڈاکٹر حمد العباد نے مزید بتایا کہ علم ادویہ کے
سلسلہ میں مسلمان اطباء نے تحقیقاتی کارنامے انجام دیے ہیں، انہوں نے کافور، صندل،
دارچینی اور قرنفل وغیرہ جڑی بوٹیوں کے خواص اور تاثیر معلوم کیے ، انہوں نے سب سے
پہلے دواسازی کی دکانیں اور گشتی بیمار خانے قائم کئے، قید خانوں کا روزانہ طبی
معائنہ کرنا اور طبی امتحانات منعقد کرنے کے طریقے سب سے پہلے عربوں نے ہی رائج
کیے، چوں کہ مسلمان اعلیٰ درجہ کے ملاح تھے، اس لیے جہاز رانی کے ذریعہ انہیں
مختلف ممالک میں پہنچ کر نئی نئی جڑی بوٹیوں کے دریافت کا موقع ملا، چناں چہ انہوں
نے طبی دنیا کو ایسی جڑی بوٹیوں سے متعارف کرایا جن سے یونان کے اطباء ناواقف تھے،
مسلمان اطباء نے طبی دنیا کو”الکحل“ سے روشناس کرایا، انہوں نے قدیم علم کیمیا کے
نظریات پر تنقید کی، اس کے فرسودہ تصورات کو غلط قرار دیا اور جدید علم کیمیا کی
بنیاد رکھی، جس کی ابتدا ابو اسحاق یعقوب الکندی نے کی اور جابر بن حیان نے علم
کیمیا اور دواسازی کے فن کو بام عروج تک پہنچا دیا، اسی علم کیمیا کی مدد سے انہوں
نے نئی نئی داوئیں تیار کیں اور نئے نئے مرکبات دریافت کئے، جابر نے داوٴوں کو
قلمانے کا طریقہ ایجاد کیا اور بہت سی دواوٴوں کو قلما کر انہیں نہایت موٴثر اور مفید
بنایا، انہوں نے بالوں کو کالا کرنے کے لیے خضاب تیار کیا، جو آج تک استعمال کیا
جاتا ہے۔
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے چیرمین ڈاکٹر حمد العباد
سینٹر کے طریقہ کار سے متعلق کہتے ہیں : کہ سینٹر میں ادویہ کی تیاری سے پہلے جڑی
بوٹیوں اور نباتات کو قدیم طب کی بنیادوں پر پرکھا جاتا ہے، جڑی بوٹیوں اور نباتات
کا انتخاب اور پھر دواسازی کا عمل متعلقہ سائنسی تحقیقات کی روشنی میں کیا جاتا
ہے، انھوں نے بتایا کہ طبی جڑی بوٹیوں کی 90 سے زیادہ اقسام ہیں، لیکن کویت اسلامک
میڈیسن سینٹر/ زیادہ تر بھارت اور پاکستان کی جڑی بوٹیوں اور نباتات کو ترجیح دیتا
ہے۔
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر کے دواسازی شعبے میں تقریبا
40 قسم کی ادویہ تیار کی جاتی ہیں، یہ ساری ادویہ عالمی ادارہ صحت کے ضوابط وقواعد
کے مطابق تیار کی جاتی ہیں اور ہر نئے پروڈوکٹ کو بھارت، مصرت اور دنیا کی مختلف
یونیورسیٹیوں کے اساتذہ اور ماہرین کے پاس ٹیسٹ کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ حال میں
کویت اسلامک میڈیسن سینٹر میں مختلف 15 بیماریوں کا علاج کیا جاتا ہے، جن میں جوڑوں کے
امراض ، خون میں چربی کا اضافہ، پیشاب کی نالی میں انفکیشن، دل کے امراض،
معدہ کے امراض، قولون کے امراض، آدھے سر کا درد، دمہ ، ناک کی الرجی، Diabetes اور
موٹاپے کے امراض وغیرہ شامل ہیں۔


No comments:
Post a Comment