تحریر:
مبصرالرحمن قاسمی
مسجد
کبیر- اسلامی فن تعمیر کا شاہکار
آج ہم کویت کی سب سے بڑی مسجد "مسجد کبیر" پہنچے ہیں۔
کویت کی مساجد کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے، اس
خلیجی ملک میں مساجد کی حسن تعمیر اور زیبائش وآرائش کا اس قدر اہتمام کیا جاتا ہے
کہ جس کی نظیر ہمیں دیگر ملکوں میں بہت کم ملتی ہے، مسجدوں کی خوبصورتی اورحسن تعمیر
میں دنیا کے ممالک کے درمیان کویت کو بطور نمونہ دیکھا جاتا ہے، تعمیر، انتظامات، نظم
ونسق اور منصوبہ بندی میں کویت کی مساجد دنیا بھر میں قابل تقلید ہیں۔
مسجد کبیر کویت کی سب سے بڑی اور سب سے خوبصورت مسجد
ہے، اسی طرح دینی وثقافتی سرگرمیوں کا یہ کویت کا اہم مرکز ہے، یہ مسجد کویت
کے قلب میں واقع ایک شاندار اسلامی نشان کا کردار ادا کررہی ہے۔
سن 1979 کے اواخر میں مسجد کبیر کی تعمیر کا منصوبہ
شروع ہوا تھا، اور اس عظیم الشان مسجد کی تعمیر کے لیے 245000 مربع میٹر زمین
استعمال کی گئی، مسجد کی تعمیر پر 14 ملین کویتی دینار یعنی تقریبا 43 ملین امریکی
ڈالر کا خرچ آیا، اور سن 1986 میں اس کا افتتاح ہوا، آج یہ مسجد خطہ خلیج عرب میں
فن تعمیر کا ایک عظیم الشان اور خوبصورت شاہکار ہے اور کویت کے قلب میں واقع ایک
مینار نور ہے۔
مسجد کبیر کی
تعمیر کا خیال مرحوم امیر شیخ جابر الاحمد الصباح کو سب سے پہلے اس وقت دامن گیر
ہوا جب آپ نے اقتدار سنبھالا اور ملک کے تمام انتظامی امور پر اطمینان حاصل
کرلیا ، امیر شیخ جابر نے اقتدار سنبھالنے کے صرف دو سال بعد اس کام کا آغاز کیا۔ ان کی
خواہش تھی کہ مسجد کبیر دنیا کے لیے اسلامی ثقافت اور فن تعمیر کا ایک شاہکار بنے یہی
وجہ تھی کی اس کی تعمیر کی نگرانی انھوں نے خود کی۔
مسجد کی تعمیر میں عالمی شہرت یافتہ انجینئرس، معمار
اور مزدوروں نے حصہ لیا، جن میں بھارت، شام، اٹلی، مراکش، ترکی اور مصر کے مایہ
ناز پچاس انجینئرس شامل ہیں، جو مسلسل چھ سال تک مسجد کی درودیوار کی نوک پلک کو
خوبصورت سے خوبصورت ترین بنانے میں مصروف رہے۔
مسجد کبیر دارالحکومت کے وسط میں سیف پیلس اور اسمبلی
ہاوس کے نزد واقع ہے، اس عظیم الشان مسجد سے کچھ ہی دوری پر کویت کی قدیم ترین مسجد "مسجد خلیفہ"، چند میٹر کے فاصلے پر ایکسینج مارکیٹ اور گولڈ
مارکیٹ وغیرہ واقع ہیں۔ مسجد کے ایک جانب مرکزی چوراہا واقع ہے۔مسجد کبیر متعدد حصوں
پر مشتمل ہے، مسجد کا ہر حصہ تعمیری اعتبار سے اپنے آپ میں بے مثال ہے، اور ہر حصہ
قدیم وجدید فن تعمیر کی ترجمانی کرتا ہے۔ مسجد میں نماز کے لیے تین عظیم الشان ہال
ہیں۔ ایک مرکزی ہال ہے جو جمعہ، عیدین اور رمضان میں کھولا جاتا ہے، دوسرا ہال
روزانہ نماز کے لیے خاص ہے جبکہ ایک ہال خواتین کے لیے خاص ہے۔
مرکزی ہال کے بیچ وبیچ ایک عظیم الشان گنبد ہے، جو
دنیا کی مساجد میں سب سے بڑا گنبد شمار کیا جاتا ہے، یہ گنبد مسجد کے فرش سے 43
میٹر اونچا ہے جبکہ اس کی گولائی 26 میٹر ہے، گنبد میں چاروں جانب سے 144 کھڑکیاں
نصب ہیں، جبکہ یہ گنبد چار بڑے بڑے ستونوں پر قائم ہے، جن میں سے ہر ایک کی لمبائی
22 میٹر ہے، گنبد کی کھڑکیوں میں لگے سفید شیشوں میں سے سورج کی دھیمی روشنی مسجد
کے اندر پڑتی ہے، جو گنبد کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے۔
گنبد میں لگے نیلے رنگ کے اصفہانی سیرامک پر خط ثلث
کے بہترین نمونے کندہ ہیں، گنبد کے بالکل وسط میں عالمی شہرت یافتہ خطاط محمد
الحداد نے اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے ہیں، انھوں نے نیلے رنگ کے سورج نما گول
سیرامک ٹائلس پر اللہ تعالی کے ننانوے نام خط کوفی میں لکھے ہیں، جنھیں اسماء حسنی
کہا جاتا ہے۔
اس پرشکوہ گنبد کو 4 چھوٹے چھوٹے گنبدوں نے احاطہ کیا
ہوا ہے، جن پر مراکشی ڈیزائن کیا گیا ہے، ان چھوٹے چھوٹے گنبدوں میں اطالوی فانوس
لٹکے ہوئے ہیں، اور ہر فانوس میں سو سے زیادہ لائٹ ہیں، جبکہ یہ فانوس لمبائی میں 7.5 میٹر اور
چوڑائی میں 3.5 میٹر ہیں اور ہر ایک فانوس کا وزن 1000 کیلوگرام ہے۔
مسجد کبیر کے مرکزی ہال کی روشنی کے لیے صرف ان ہی
فانوسوں کا سہارا نہیں لیا جاتا ہے بلکہ ان کے علاوہ مسجد کے دیواروں پر اور چھت
پر جرمن فانوس لگے ہیں جن کی تعداد 80 ہیں، یہ فانوس پورے ہال میں پھیلے ہوئے ہیں،
جو آسمان میں بڑے ستاروں کے درمیان چھوٹے چھوٹے تاروں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ ان کی
چمک اور تابانی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے ۔
یقینا محراب و منبر ہر مسجد میں ایک نمایاں جگہ ہوتی ہے،جہاں باہر سے دیکھنے والوں کے لئے مسجد کا مینار اور گنبد مرکز نگاہ بن
جاتے ہیں وہیں مسجد کے اندر محراب و منبر ہی وہ دو مقام ہیں جو ہر ایک کی توجہ کا
مرکز ہوتے ہیں۔ مسجد کبیر کا محراب دیدنی ہے، یہ محراب جہاں اسلامی فن معماری کا
آئینہ دار ہے وہیں اس کا نیلگوں اور سرخ رنگ کویتی آب وہوا کا غماز ہے۔ فنکاروں نے
محراب کے اندر کی جانب سنگ تراشی کے ذریعے خوبصورت گل کاری کا کام کیا ہے۔ اس محراب پر
قوس کی شکل میں پچی کاری کے ذریعے خوبصورت رنگین نقش ونگار بنائے گئے ہیں جس کےگرد
کوفی رسم الخط میں قرآنی آیات لکھی گئی ہیں۔ محراب کی ایک جانب منبر ہے جو قیمتی ساگوان کی لکڑی سے بنایا گیا ہے۔محراب کے بائیں جانب سے منبر کا
راستہ ہے، منبر پر چڑھنے کے لیے محراب کے پیچھے قبلے کی دیوار کے اندر چھپی 14 سیڑھیاں ہیں ، منبر کی اونچائی تقریبا دو
میٹر ہے، اس منبر کو ماہر فنکاروں نے طویل
مدت میں مکمل کیا تھا۔ منبر میں زیادہ آب و تاب پیدا کرنے کے لئے اسے مختلف نقش
ونگار سے مرصع کیا گیا ہے۔
مسجد کبیر میں جملہ 21 دروازے ہیں، جن میں 14 مشرق کی جانب
، چار جنوب کی جانب اور 3 شمالی سمت میں ہیں۔ یہ تمام دروازے ہندوستان سے لائی گئی
ساگوان کی لکڑی سے تیار کیے گئے ہیں، ان دروازوں پر مختلف خطوں میں قرآنی آیات
کندہ ہیں، ساتھ ہی ان پر ہندوستان کے ماہر فنکاروں نے اعلی قسم کا ڈیزائن کیا ہے۔
مسجد کبیر کے شمالی اور جنوبی حصے کی چھت میں فائبر گلاس کے
گنبد لگائے گئے ہیں، جو نہ صرف مسجد کے اندرونی حصے میں روشنی فراہم کرتے ہیں بلکہ
ان گنبدوں میں استعمال کیے گئے اعلی قسم کے فائبر گلاس گرمی کی سختی کو بھی کم
کرتے ہیں۔ شمالی وجنوبی حصے میں جملہ 44 گنبد ہیں، جو بیک وقت روشنی بھی فراہم
کرتے ہیں اور تعمیر میں جمالیاتی کردار بھی ادا کرتے ہیں۔
مسجد کبیر کا وہ ہال جو سال بھر پنج وقتہ نمازوں کے لیے
مخصوص ہے مرکزی ہال سے متصل اور مشرقی سمت میں بالکل اس کے پیچھے ہے، اس ہال
میں بیک وقت 500 افراد کے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، یہ ہال پنج وقتہ نمازوں، روزہ
مرہ کے دروس اورلیکچرس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس ہال میں بھی ساگوان سے
تیارکردہ ایک خاص محراب ہے، محراب کی دیوار قوس نما ہے، جسے مراکشی ڈیکور سے مزید
کیا گیا ہے، اس ہال کی چھت پر بھی 9 عدد جرمن فانوس لٹکے ہوئے ہیں، جو اپنی
خوبصورتی میں لاجواب ہیں۔
مسجد کبیر کے "مصلی یومی" یعنی سال بھر پنج وقتہ نمازوں
کے لیے خاص ہال کے اوپر خواتین کے لیے ایک مخصوص ہال ہے، جس میں بیک وقت 1000 خواتین
نماز ادا کر سکتی ہیں، اس ہال کے قبلے کی طرف والی دیوار میں لکڑی کی خوبصورت کھڑکیاں
ہیں، جو مسجد کبیر کے مرکزی ہال میں کھلتی ہیں، یہاں سے خواتین امام وخطیب کو
دیکھ سکتی ہیں۔
خواتین کے اس مصلے میں بھی روشنی کے لیے 18 فانوس نصب ہیں، اس ہال میں جانے کے لیے
جنوبی سمت مستقل طور پر ایک دروازہ ہے، خواتین کو وضووغیرہ کے لیے اسی سے متصل
وضوخانہ اور طہارت خانہ بنایا گیا ہے۔
مسجد کبیر کا مینار گویا آسمان سے باتیں کرتا ہے، جو
مسجد کے شمال مغربی سمت واقع ہے، اس کی بنیادوں کو متعدد چھوٹے چھوٹے سوتوں نے
گھیرے ہوئے ہیں، مسجد کبیر کا یہ مینار 72 میٹر بلند ہے، مینار کے تہائی حصے پر
متعدد ستونوں سے گھرا بیت الموذن ہے، جہاں سے موذن اذان دیتا ہے، اس کے اوپر ایک
چھت ہے اور پھر چھت کے اوپر نصف قطر مینار ہے اور اس کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد
ہے، اس گنبد پر ایک بڑا چاند ہے جو اسلامی فن تعمیر کی ایک اہم علامت ہے، مسجد
کبیر کا یہ خوبصورت مینار مختلف الاضلاع ہے، اس کے اضلاع کی تعداد بارہ ہے، مینار
میں طرطوس کے اعلی اور انتہائی نفیس پتھر کا استعمال کیا گیا ہے، اس مینار میں اوپر
تک جانے کے لیے دیگر مساجد کے برخلاف لفٹ کا نظم ہے۔
مسجد کے مشرقی جانب مسجد کا وسیع وعریض صحن ہے، جسے تین
جانب سے برآمدوں نے گھیرے ہوئے ہیں، یہ برآمدے 8 میٹر بلند ستونوں پر قائم ہیں، جن
کی چھتوں میں قدیم شکل والے جدید فانوس لٹکے ہوئےہیں۔ ان برآمدوں کی لمبائی 760
میٹر ہے، جو گذرنے والوں کو بارش اور دھوپ سے محفوظ رکھتے ہیں، ان کی دیواروں پر
اعلی قسم کی ٹائلس لگائی گئی ہیں، یہ برآمدے بسا اوقات نماز کے لیے بھی استعمال کیے
جاتے ہیں۔
مسجد کے مرکزی ہال کے مشرقی جانب ایک بڑا ہال ہے جو برآمدوں
تک پھیلا ہوا ہے، اس ہال کی چھت پر قندیل نما دمشقی فانوس لٹکے ہوئے ہیں۔
مسجد کبیر میں مرکزی صحن کے علاوہ چھوٹے سائز کے مزید دو
صحن ہیں، ان دونوں صحنوں کی زمین میں قدرتی رنگ والا بھارت کا کوٹا پتھر لگایا گیا
ہے، جو قدیم کویتی ماحول کے رنگ کے مشابے ہے۔
مشرقی صحن کے شمالی اور جنوبی جانب وضوخانے اور طہارت خانے
بنائے گئے ہیں، جن میں 133 وضوخانے اور 78 حمام ہیں، وضوخانوں کی دیواروں میں
اصفہانی سیرامک کا استعمال کیا گیا ہے، جبکہ وضو خانے کی بیٹھکوں کے لیے اطالوی
سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے اور وضوخانے کی دیواروں میں قدرتی روشنی اور تازہ
ہوا کے لیے کشادہ کھڑکیاں لگائی گئی ہیں۔
مسجد کبیر کے وسیع وعریض صحن کا زیریں حصہ بھی دیدنی ہے، یہ
حصہ پانچ منزلہ ہے، جس میں بیک وقت 550 گاڑیوں کے رکنے کی گنجائش ہے، ان پانچ
منزلہ زیریں حصے میں جگہ جگہ لفٹ کا نظم ہے جن کے ذریعے لوگ صحن اور برآمدوں میں
پہنچتے ہیں۔
مسجد کبیر کے مرکزی ہال کے شمال مغربی سمت سے متصل قبلے کی
طرف امیری ہال ہے، یہ ہال انواع واقسام کے قیمتی اور خوبصورت چیزوں سے مزین ہے، یہ
ہال کویتی امیر کے لیے خاص ہے، قبلے کی دیوار میں موجود دروازے سے امیر بلاد اس ہال میں
داخل ہوتے ہیں، اس ہال میں امیر بلاد مہمانوں کا استقبال اور دینی تقریبات کے موقع پر
استراحت فرماتے ہیں۔
مسجد کبیر کا ٹیلی فون فتوی سینٹر اسلامی دنیا کا
ایک بے مثال مرکز ہے، اس سینٹر میں باصلاحیت اور ماہر علماء کی ٹیم مستقل موجود
ہوتی ہے، علماء کی اس ٹیم سے دن اور رات کے کسی بھی وقت میں اسلام سے متعلق سوالات
پوچھے جاتے ہیں، علماء سوال پوچھنے والوں کو براہ راست فورا اطمینان بخش جواب دیتے
ہیں، اگر جواب مشکل ہوتو علماء کی یہ ٹیم وزارت اوقاف کی فتوی ٹیم سے سائل کی فون
لائن کو فورا جوڑدیتی ہے۔ مسجد کبیر کے اس فتوی سینٹر میں قیام کے صرف پہلے تین
سال میں 160 ہزار سے زیادہ دینی سوالات کے جوابات دیئے گئے تھے، فتون سینٹر پر کال
کرنے کےلیے 149 نمبر خاص ہے ، اس نمبر پر آپ براہ راست فون کرکے اپنے دینی مسائل کے
جوابات حاصل کرسکتے ہیں۔
مسجد کبیر میں دوکتب خانے بھی ہیں، ایک کتب خانہ اہل علم
اور محققین کے لیے خاص ہے، اس میں مطالعے کے لیے خصوصی خلوت گاہیں بنائی گئی ہیں۔
جبکہ دوسرا کتب خانہ عام ہے، اس میں عالمی زبانوں میں اسلام سے متعلق مختلف
کتابوں، کیسٹوں اور سی ڈیز کا ذخیرہ رکھا گیا ہے، زائرین کو کتب خانے کی جانب سے
مفت کتابیں تقسیم کی جاتی ہیں اور انھیں اسلام کا تعارف بھی کرایا جاتا ہے۔
دونوں کتب خانوں کے بغل میں ایک ہال ہے، جس میں 250 نشستوں
کی گنجائش ہے۔ اس ہال میں خصوصی سیمنار اور لیکچرس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
مسجد کبیرانتظامیہ انٹرنیٹ پر بھی سرگرم ہے، مسجد کبیر کی
ایک مخصوص ویب سائٹ ہے، اس ویب سائٹ سے دنیا بھر میں 40 ملین سے زیادہ لوگ استفادہ
کرتے ہیں، اس ویب سائٹ پر رمضان المبارک میں مسجد کبیر کی نمازوں خصوصا قیام لیل
نشر کی جاتی ہے۔
مسجد کبیر کو خوبصورت پھولوں، کھجور کے درختوں اور سبز ہریالی
والے باغ نے گھیرے ہوئے ہے۔ اس باغ کا رقبہ 15 ہزار مربع میٹر ہے، جس میں جگہ جگہ
9 عدد جھرنے نصب کیے گئے ہیں۔ کویت کی یہ مسجد اپنی اندرونی اور بیرونی خوبصورتی میں دنیا
کی عظیم الشان مساجد میں شامل ہے۔




No comments:
Post a Comment